10 مارچ 2013 - 20:30

کھلاڑی ملک کے تشخص اور ایمان و شریعت کے سفیر ہیں,ملک کے کھلاڑی ایسے ہیرو ہیں جو قوم اور خاص طور پر نوجوانوں کو کامیابی کی بلندیوں کی جانب لے جانے والے رہنما ہیں, کھیل کے میدانوں میں پوزیشن حاصل کرنے والے قوم کی صلاحیتوں کے مظہر ہیں اور ان کی کامیابیوں سے قوم کی خود اعتمادی میں اضافہ ہوتا ہے,کھیل کے میدانوں میں با پردہ لڑکیوں کی شرکت بہت ہی اہم اور قابل قدر ہے۔ان خیالات کا اظہار آج رہبر انقلاب اسلامی نے اولمپیک کھیلوں میں ممتاز کھلاڑیوں سے ملاقات میں کیا۔

اہلبیت (ع) نیوز ایجنسی ۔ابنا۔ کھیل کے عالمی مقابلوں میں تمغے اور سنہ 2012 کے اولمپک اور پیرا اولمپک کھیلوں میں ممتاز مقام حاصل کرنے والے کھلاڑیوں اور اس شعبے سے وابستہ عہدیداروں نے آج رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں رہبر معظم انقلاب نے ملک کے پہلوانوں اور ممتاز کھلاڑیوں کو ایرانی قوم کے تشخص ، پہچان، پختہ عزم، ذہانت ، ایمان اور شریعت کے سفیر قراردیتے ہوئے فرمایا: ممتاز اور بہادر کھلاڑی اس بلند چوٹی کے مانند ہیں جس کی جانب وہ  پوری قوم بالخصوص باصلاحیت جوانوں کی حرکت کی راہ ہموار کرنے کے سلسلے میں نمونہ عمل ہیں۔رہبر معظم انقلاب اسلامی نےفرمایا: ممتاز کھلاڑی اور چیمپئنزایک قوم کی توانائيوں کا مظہر ہوتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ خوداعتمادی اور قومی اعتماد میں اضافہ کا باعث بنتے ہیں۔رہبر معظم انقلاب اسلامی نے شرعی حدود کی رعایت، جوانمردانہ جذبہ اور اخلاق کی حفاظت کے ساتھ  کھلاڑیوں کی بین الاقوامی میدانوں میں شرکت کو ایک قوم کے ممتاز  صفات اور اقدار کی عالمی تبلیغ قراردیتے ہوئے فرمایا: ان میں سے ایک مورد اسلامی حجاب کی مکمل رعایت کے ساتھ جوان خواتین کی کھیل کےعالمی میدانوں میں شرکت ہے اور یہ اقدام بہت ہی عظيم ، اہم اور گرانقدر ہے۔رہبر معظم انقلاب اسلامی نے یورپ میں باپردہ مسلمان خواتین کے متعدد قتل، حملوں اور دھمکیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ایسے شرائط میں جب ایک باپردہ  ایرانی مسلمان عورت چیمپئن شپ پلیٹ فارم پر کھڑی ہوتی ہے اور سب کو احترام و تکریم پر مجبور کرتی ہے تو حقیقت میں اس نے بہت بڑا اور عظيم کام انجام دیا ہے۔رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: کھیل میں شرکت کرنے والی خواتین کی سب کو دل کی گہرائیوں سے قدردانی کرنی چاہیے جو اسلامی حجاب، سنجیدگی اور وقار کے ساتھ کھیل  میں شرکت کی غرض سےعالمی میدانوں میں حاضر ہوتی ہیں۔رہبر معظم انقلاب اسلامی نے کھیل کےعالمی  میدانوں میں جانبازوں اور معذور افراد کی کامیابیوں کو پیغام پہنچانے کا دوسرا نمونہ قراردیتے ہوئے فرمایا: تمام جسمی دشواریوں اورسختیوں کے ساتھ جانباز اور معذور افراد کا چمپیئن پلیٹ فارم پر کھڑا ہونا ان کے قوی اور پختہ عزم و ارادے اور اسی طرح ایک قوم کی بلند ہمتی اور تشخص کا مظہر ہے۔رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: کھلاڑیوں کی بین الاقوامی کامیابیوں کے سلسلے میں میرے شکریے کے پیغامات سچے اور حقیقی احساسات کا مظہر ہیں اور اس بات پر اعتقاد ہے کہ کھلاڑی عالمی چمپیئن حاصل کرکے قوم اور ملک کی خدمت کررہے ہیں اور ایرانی قوم کی استقامت ،عزم و ارادہ اور ایمان کے پیغام کو دنیا تک پہنچا رہے ہیں۔رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے کھیل چمپیئن کے بین الاقوامی میدانوں میں دینی اور معنوی شعائر کو زندہ رکھنے والے کھلاڑیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: میں تمام ان کھلاڑیوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جو عالمی چمپیئن کے میدانوں میں آئمہ معصومین (ع) کا نام زبان پر جاری کرتے ہیں اللہ تعالی کا شکر بجالانے کے لئےسجدہ کرتے ہیں دعا کے لئے ہاتھ بلند کرتے ہیں یا پہاڑوں کی بلند چوٹیوں کو سر کرنے کے بعد اذان کہتے ہیں اور اسی طرح ان تمام خواتین کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جو کھیل کے میدان میں اسلامی حجاب و عفاف  اور معنویت کی رعایت کرتی ہیں۔رہبر معظم انقلاب اسلامی نے دنیا میں جوانوں کی بے دینی اور بد اخلاقی کی جانب حرکت اور ایسے شرائط میں معنویات کے نمایاں مقام کو شکریہ ادا کرنے کی دلیل قراردیتے ہوئے فرمایا: اسی وجہ سے کھلاڑیوں کو اپنی قدر و قیمت پہچاننی چاہیے اور جوانمردی، پہلوانی اور معنوی جذبے کے صفات کی حفاظت اور ان کو مضبوط و مستحکم بنانے کے سلسلے میں تلاش و کوشش کرنی چاہیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/242