7 مارچ 2013 - 20:30

پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ایک بار پھر واضح کیا ہے امریکی دباﺅ کے باوجود اربوں ڈالر کے پاکستان اور ایران گیس پائپ لائن منصوبے کو مکمل کرینگے۔

ابنا: جیسے جیسے پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کے افتتاح کی تاریخ 11 مارچ نزدیک آتی جا رہی ہے، امریکہ کی بےچینی میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے، اور وہ مختلف انداز میں پاکستان کے اس فیصلے پر اثرانداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔ کبھی توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لئے ہر ممکن مدد اور تعاون کی یقین دہانیاں کروائی جا رہی ہیں تو کبھی پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کو اقوام متحدہ کی پابندیوں کی خلاف ورزی قرار دے کر خود پاکستان کو ان پابندیوں کی لپیٹ میں آنے پر متنبہ اور خبردار کیا جا رہا ہے۔

 ادھر امریکہ نے پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ طے پانے کی صورت میں شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ واشنگٹن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نولینڈ کا کہنا تھا کہ پاکستان کے توانائی بحران کے حل کے لیے امریکا کوششیں کر رہا ہے۔ منگلا اور جامشورو میں بجلی گھروں کو جدید بنانے کے لیے امریکی کوششیں جاری ہیں۔ ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن معاہدہ اقوام متحدہ کی پابندیوں کی خلاف ورزی ہوگی۔ دیگر ذرائع کے مطابق امریکہ نے کہا ہے کہ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ اقوام متحدہ کی پاپندیوں کی خلاف ورزی ہے۔ امریکی دفتر خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نو لینڈ کا کہنا تھا کہ امریکہ کو پاک ایران گیس منصوبہ پر تحفظات ہیں۔ یہ اقوام متحدہ کی طرف سے ایران کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے عائد پابندیوں کی خلاف ورزی بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ توانائی بحران سے نمٹنے کے لئے پاکستان کی ہر ممکن مدد کر رہا ہے۔

دوسری جانب صدر آصف علی زرداری پیر کو ایران پاکستان گیس منصوبے کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب میں شرکت کے لئے ایران جائیں گے، تقریب میں شرکت کے لئے کئی سربراہان مملکت کو دعوت دی گئی ہے، یہ بات دفتر خارجہ کے ترجمان معظم اے خان نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران بتائی۔ این این آئی کے مطابق پاکستان نے ایک بار پھر واضح کیا ہے امریکی دباﺅ کے باوجود اربوں ڈالر کے پاکستان اور ایران گیس پائپ لائن منصوبے کو مکمل کرینگے۔ اے پی پی کے مطابق ترجمان نے کہا ایران پاکستان گیس منصوبہ پاکستان کا قومی مفاد ہے اور اس بارے میں کوئی ابہام نہیں، پاکستان کو توانائی کی شدید قلت کا سامنا ہے جس کی وجہ سے معاشی اور سماجی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے بتایا امریکہ سمیت کئی ممالک کی طرف سے مطالبات سامنے آئے ہیں اور واشنگٹن سے ایسی رپورٹس سامنے آئی ہیں جن میں تشویش کا اظہارکیا گیا ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا امریکہ سمیت پاکستان کے دوست ممالک پاکستان کی معاشی مجبوریوں کو سمجھیں گے۔ انہوں نے بتایا امریکہ کی طرف سے اس منصوبے پر کوئی باضابطہ احتجاجی نوٹ نہیں ملا، صرف بیانات سامنے آئے ہیں۔

.....

/169