ابنا: پاکستان مسلم لیگ نون نے کل بروز جمعرات اپنا انتخابی منشور پیش کردیا، جس میں معیشت کی بحالی اور توانائی کے بحران کا حل پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔
سو سے زیادہ صفحات پر مشتمل یہ دستاویز بتیس ٹھوس اہداف پر مشتمل ہے جس کو مسلم لیگ نون کے سربراہ نواز شریف نے ایک پریس کانفرنس میں پیش کیا۔
اس منشور میں کہا گیا ہے کہ ایک آئینی ترمیم کے ذریعے غذائی ضروریات کی فراہمی کو بنیادی حقوق میں شامل کیا جائے گا، انٹیلی جنس اداروں کی پارلیمنٹ کے ذریعے نگرانی سے لاپتہ افراد کا مسئلہ حل ہوسکے گا اور اختیارات کے غلط استعمال کو روکا جاسکے گا۔
نواز شریف نے کہا کہ یہ منشور مفروضات کے بجائے حقائق کی بنیاد پر تشکیل دیا گیا ہے، اور صرف مطلوبہ اہداف پر توجہ دی گئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس دستاویز کی تیاری میں تمام وسائل اور مشکلات کو پیش نظر رکھا گیا ہے۔
معیشت کی بحالی کے منصوبے کے حوالے سے یہ عزم ظاہر کیاگیا ہے کہ ٹیکس میں اضافے سے جی ڈی پی کی شرح کو نو فیصد سے پندرہ فیصد تک لے جاکر بجٹ کے خسارے کو چار فیصد تک لایا جائے گا۔
اس میں یہ تجویز بھی پیش کی گئی ہے کہ تنخواہوں، پنشنز اور دیگر اخراجات میں تیس فیصد تک کٹوتی، اداروں کی تنظیم نو اور خسارے میں چلنے والے اداروں کی فروخت سے جی ڈی پی کی شرح میں اضافہ کیا جائے گا۔
حکومتی قرضے جو نواز شریف کے دعوے کے مطابق ایک دن میں سات ارب روپے تک جاپہنچے کو روکا جائے گا۔ ٹیکس اور شرح سود کو کم کرکے افراط زر کو ایک ہندسے کی سطح تک کم کیا جائے گا۔
مسلم لیگ نون علاقائی تجارت کی حوصلہ افزائی کرے گی اور سرخ فیتے کو ختم کرکے فیصلہ سازی کے عمل کو تیز کیا جائے گا۔
مسلم لیگ نون نے یہ عہد کیا ہے کہ توانائی کے بحران کو دو سالوں کے اندر ختم کردیا جائے گا، اس کے لیے منصوبہ یہ ہے کہ قدرتی وسائل، پٹرولیم اور پانی و بجلی کی وزارتوں کو آپس میں ضم کردیا جائے گا۔نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی(نیپرا)، توانائی کی پیدوار اور تقسیم کے ذمہ دار اداروں میں اصلاحات کی جائے گی۔ توانائی کی پیداواری لاگت کم کرنے کے لیے پاور پلانٹ کو گیس پر منتقل کیا جائے گا اور فرنس آئل سے چلنے والے پاور پلانٹ کو کوئلے پر منتقل کیا جائے گا۔
نئے سی این جی اسٹیشن پر پابندی عائد کردی جائے گی اور گیس کی فراہمی میں پبلک ٹرانسپورٹ کو ترجیح دی جائے گی۔
مسلم لیگ نون کے منشور میں یہ وعدہ کیا گیا ہے کہ سرکاری اور نجی شعبوں میں تیس لاکھ سے زیادہ ملازمتوں کے مواقع پیدا کیے جائیں گے اور بتدریج کم سے کم تنخواہ کی شرح کو پندرہ ہزار فی مہینے تک بڑھا دیا جائے گا۔
بیرونی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کے لیے پیشہ ورانہ اور کاروباری شعبوں سے متعلق ایک فورم قائم کیا جائے گا جو قومی ترقی میں تارکین وطن پاکستانیوں کے کردار میں اضافہ کرے گا۔
نواز شریف نے کہا کہ ان کی پارٹی برسراقتدار آنے کے بعد بدعنوانی کو برداشت نہ کرنے کی پالیسی اپنائے گی۔ اس ضمن میں انتظامی اور مالی طور پر آزاد ایک قومی احتساب کمیشن کی تجویز بھی دی ۔
انہوں نے کہاصوابدیدی اختیارات کو یا تو ختم یا پھر کم کیا جائے گا۔ اطلاعات کی آزادی کے قانون کے تحفظ کو یقینی بناکر حکومتی نظام کی شفافیت کو بہتر بنایا جائے گا۔
خارجہ پالیسی کے حوالے سے کہا کہ کشمیر کے مسئلے کو اقوام متحدہ کی قرارداد اور لاہور اعلامیہ کے مطابق حل کیا جائے گا۔ پانی کے مسئلے اور اس کی تقسیم پر ہمسایہ ممالک سے تعلقات کے تناظر میں ترجیحی بنیادوں پر توجہ دی جائے گی۔
خطے میں اسٹریجیٹک مساوات اور اسٹریجیٹک اثاثوں میں بہتری کو یقینی بنایا جائے گا۔
انسداد دہشت گردی کے قانون کو بہتر بنایا جائے گا تاکہ ثبوتوں اور استغاثہ کا معیار بہتر ہوسکے، ججوں اور گواہوں کو تحفظ حاصل ہوسکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲
سو سے زیادہ صفحات پر مشتمل یہ دستاویز بتیس ٹھوس اہداف پر مشتمل ہے جس کو مسلم لیگ نون کے سربراہ نواز شریف نے ایک پریس کانفرنس میں پیش کیا۔
اس منشور میں کہا گیا ہے کہ ایک آئینی ترمیم کے ذریعے غذائی ضروریات کی فراہمی کو بنیادی حقوق میں شامل کیا جائے گا، انٹیلی جنس اداروں کی پارلیمنٹ کے ذریعے نگرانی سے لاپتہ افراد کا مسئلہ حل ہوسکے گا اور اختیارات کے غلط استعمال کو روکا جاسکے گا۔
نواز شریف نے کہا کہ یہ منشور مفروضات کے بجائے حقائق کی بنیاد پر تشکیل دیا گیا ہے، اور صرف مطلوبہ اہداف پر توجہ دی گئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس دستاویز کی تیاری میں تمام وسائل اور مشکلات کو پیش نظر رکھا گیا ہے۔
معیشت کی بحالی کے منصوبے کے حوالے سے یہ عزم ظاہر کیاگیا ہے کہ ٹیکس میں اضافے سے جی ڈی پی کی شرح کو نو فیصد سے پندرہ فیصد تک لے جاکر بجٹ کے خسارے کو چار فیصد تک لایا جائے گا۔
اس میں یہ تجویز بھی پیش کی گئی ہے کہ تنخواہوں، پنشنز اور دیگر اخراجات میں تیس فیصد تک کٹوتی، اداروں کی تنظیم نو اور خسارے میں چلنے والے اداروں کی فروخت سے جی ڈی پی کی شرح میں اضافہ کیا جائے گا۔
حکومتی قرضے جو نواز شریف کے دعوے کے مطابق ایک دن میں سات ارب روپے تک جاپہنچے کو روکا جائے گا۔ ٹیکس اور شرح سود کو کم کرکے افراط زر کو ایک ہندسے کی سطح تک کم کیا جائے گا۔
مسلم لیگ نون علاقائی تجارت کی حوصلہ افزائی کرے گی اور سرخ فیتے کو ختم کرکے فیصلہ سازی کے عمل کو تیز کیا جائے گا۔
مسلم لیگ نون نے یہ عہد کیا ہے کہ توانائی کے بحران کو دو سالوں کے اندر ختم کردیا جائے گا، اس کے لیے منصوبہ یہ ہے کہ قدرتی وسائل، پٹرولیم اور پانی و بجلی کی وزارتوں کو آپس میں ضم کردیا جائے گا۔نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی(نیپرا)، توانائی کی پیدوار اور تقسیم کے ذمہ دار اداروں میں اصلاحات کی جائے گی۔ توانائی کی پیداواری لاگت کم کرنے کے لیے پاور پلانٹ کو گیس پر منتقل کیا جائے گا اور فرنس آئل سے چلنے والے پاور پلانٹ کو کوئلے پر منتقل کیا جائے گا۔
نئے سی این جی اسٹیشن پر پابندی عائد کردی جائے گی اور گیس کی فراہمی میں پبلک ٹرانسپورٹ کو ترجیح دی جائے گی۔
مسلم لیگ نون کے منشور میں یہ وعدہ کیا گیا ہے کہ سرکاری اور نجی شعبوں میں تیس لاکھ سے زیادہ ملازمتوں کے مواقع پیدا کیے جائیں گے اور بتدریج کم سے کم تنخواہ کی شرح کو پندرہ ہزار فی مہینے تک بڑھا دیا جائے گا۔
بیرونی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کے لیے پیشہ ورانہ اور کاروباری شعبوں سے متعلق ایک فورم قائم کیا جائے گا جو قومی ترقی میں تارکین وطن پاکستانیوں کے کردار میں اضافہ کرے گا۔
نواز شریف نے کہا کہ ان کی پارٹی برسراقتدار آنے کے بعد بدعنوانی کو برداشت نہ کرنے کی پالیسی اپنائے گی۔ اس ضمن میں انتظامی اور مالی طور پر آزاد ایک قومی احتساب کمیشن کی تجویز بھی دی ۔
انہوں نے کہاصوابدیدی اختیارات کو یا تو ختم یا پھر کم کیا جائے گا۔ اطلاعات کی آزادی کے قانون کے تحفظ کو یقینی بناکر حکومتی نظام کی شفافیت کو بہتر بنایا جائے گا۔
خارجہ پالیسی کے حوالے سے کہا کہ کشمیر کے مسئلے کو اقوام متحدہ کی قرارداد اور لاہور اعلامیہ کے مطابق حل کیا جائے گا۔ پانی کے مسئلے اور اس کی تقسیم پر ہمسایہ ممالک سے تعلقات کے تناظر میں ترجیحی بنیادوں پر توجہ دی جائے گی۔
خطے میں اسٹریجیٹک مساوات اور اسٹریجیٹک اثاثوں میں بہتری کو یقینی بنایا جائے گا۔
انسداد دہشت گردی کے قانون کو بہتر بنایا جائے گا تاکہ ثبوتوں اور استغاثہ کا معیار بہتر ہوسکے، ججوں اور گواہوں کو تحفظ حاصل ہوسکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲