ابنا: اسلام ٹائمز کے حوالے سے نقل ک یا ہے کہ پاکستان میں شیعہ سنی علمائے کرام نے صدر آصف علی زردای سے تفصیلی ملاقات کی ہے۔ جس میں بلوچستان کی صورت حال کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ علمائے کرام میں مجلس وحدت مسلمین کے صوبائی سیکرٹری جنرل علامہ مقصود علی ڈومکی، شیعہ علماء کونسل کے رہنماء غلام مہدی نجفی، جامع امام صادق (ع) کے پرنسپل اور ایم ڈبلیو ایم کی مجلس نظارت کے رکن علامہ جمعہ اسدی، جمیعت علمائے پاکستان کے صوبائی رہنماء مفتی غلام محمد قادری، مولانا شہزاد، مولانا عبداللہ خلجی موقع پر موجود تھے۔ اس اہم ملاقات میں شہدائے کوئٹہ کے لئے فاتحہ خوانی کی گئی اور ان کی مغفرت کے لئے دعا کی گئی۔ ملاقات میں پیپلز پارٹی کے رہنما سینٹر فیصل رضا عابدی بھی موجود تھے۔ مولانا عبداللہ خلجی نے صدر مملکت کو پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کی پیش رفت پر مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے بہت اہمیت کا حامل ہے اور اس سے نہ صرف پاکستان میں توانائی کا بحران ختم ہو گا بلکہ دونوں برادر ممالک کے درمیان تعلقات مزید فروغ پائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سلام پیش کرتے ہیں پی پی کی قیادت کو کہ جس نے امریکی دباو کو مسترد کرتے ہوئے عوامی امنگوں کی ترجمانی کی۔
مجلس وحدت مسلمین بلوچستان کے سیکرٹری جنرل علامہ مقصود علی ڈومکی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شیعہ، سنی مسلمانوں کے درمیان صدیوں سے بردرانہ تعلقات اسلامی اخوت پر مبنی ہیں۔ کچھ عرصہ سے شرپسند عناصر سامراجی ایجنڈے کی تکمیل کرتے ہوئے مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت کو فروغ دے رہے ہیں اور یہ گروہ نفرت پر منبی کارروائیاں کر رہے ہیں۔ جو حکومت کی کارگردگی پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ان شرپسند عناصر کا تعاقب کرے اور مسلمانوں کے درمیان بھائی چارے کے فروغ کے لئے ٹھوس اقدامات کرے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں قیام امن کے لئے علمائے کرام حکومت کے دست بازو بننے کے لئے تیار ہیں۔ شیعہ علماء کونسل کے رہنماء نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ کے اندر شیعہ نسل کشی کا نہ رکنے والا سلسلہ جاری ہے۔ اس قتل قتال کو روکنے کے لئے ٹھوس بنیادوں پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت دہشت گردوں کے خلاف سنجیدہ کارروائی کرے اور انہیں لگام دے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن کو مزید تیز کیا جائے۔ یہ آپریشن اس وقت تک جاری رہنا چاہیئے جب تک کہ دہشت گردوں کا نیٹ ورک ختم نہ ہو جائے۔ جمیعت علمائے پاکستان کے رہنماء مفتی غلام محمد قادری نے کہا کہ بلوچستان میں اہل تشیع کی طرح بریلوی اہل سنت کو بھی ظلم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ہمارے پیر، گدی نشینوں کو قتل کی دھمکیوں کے ساتھ ساتھ ہمارے علمائے کرام کی شہادتوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ صدر آصف علی زرداری نے علمائے کرام سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت دہشت گردی اور دہشت گردوں کے خاتمے میں سنجیدہ ہے۔ حکومت اس حوالے سے ٹھوس حکمت عملی رکھتی ہے اور دہشت گردوں کا قلع قمع کرکے دم لے گی۔ ایم ڈبلیو ایم کے صوبائی سیکرٹری جنرل علامہ مقصود علی ڈومکی نے "اسلام ٹائمز" کو بتایا کہ صدر مملکت نے واضح طور پر کہا کہ دہشت گرد اور شدت پسند ٹولہ مجھے اور میری پارٹی کو اس لئے پسند نہیں کرتا کیوں کہ میں اور میری پارٹی پرو شیعہ ہیں۔
انہوں نے علمائے کرام کو یقین دلایا کہ حکومت علمائے کرام کی مدد اور حمایت سے دہشت گردی کو ختم کرے گی۔ ملت جعفریہ کے روحانی پیشوا حضرت آیت اللہ خامنہ ای سے ملاقات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ملاقات نہایت ہی اہمیت کی حامل تھی۔ جس میں ہم نے ملک و قوم کے مفاد میں فیصلے کیے۔ ایم پی اے رقیہ ہاشمی کی سربراہی میں ایک وفد نے بھی صدر آصف علی زردای سے ملاقات کی۔ جس میں مختلف زعماء اور علمائے کرام بھی شامل تھے۔ کوئٹہ یکجہتی کونسل کی نمائندگی کرتے ہوئے شوکت چنگیزی نے صدر مملکت سے گفتگو کرتے ہوئے بلوچستان میں ملت جعفریہ پر ڈھائے جانے والے مظالم کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ دہشت گردوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے۔ ایچ ڈی پی کے چیئرمین عبدالخالق ہزارہ نے کہا کہ بلوچستان میں قیام امن اور دہشت گرودں کے خاتمے کے لئے ریاستی ادارے سنجیدہ نظر نہیں آتے۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایف سی کی چیک پوسٹوں اور چوکیوں کے قریب دہشت گرد شیعہ افراد کو شہید کرتے ہیں اور بڑے آرام سے فرار ہونے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور ایف سی خاموش تماشائی بنی رہتی ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنماء سینٹر فیصل رضا عابدی نے صدر کی اجازت سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں تمام شیعہ برادری کو اس عظیم مقاومت پر سلام پیش کرتا ہوں اور شہداء کی شہادتوں پر ہدیہ تعزیت پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اس حوالے سے سنجیدہ اقدامات اٹھا رہی ہے اور آپ کے تمام تحفظات کے ازالے کے لئے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ اس دوسری ملاقات میں مجلس وحدت مسلمین کے صوبائی سیکرٹری جنرل علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ حکومتی دعوٰے کے باوجود تکفیری گروہ دہشتگرد ٹولہ کھلے عام پریس کانفرنسنز کرتا ہے اور مکتب اہل بیت (ع) کے بارے میں غلیظ زبان استعمال کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ریاستی ادارے یہ سب کچھ دیکھنے کے باوجود کوئی اقدام نہیں کرتے۔ گورنر ذوالفقار علی مگسی نے کہا کہ یہ شدت پسند ٹولہ صحافی برادری کو دھمکیاں دیتا اور کہتا ہے کہ اگر تم نے ہماری کوریج نہ کی تو ہم تمہیں جان سے مار دیں گے۔ علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ صحافی برادری کو بھی تحفظ فراہم کیا جائے اور جو افراد ان کو دھمکیاں دیتے ہیں اور سینہ زوری سے پریس کانفرنسز کرتے ہیں ان کے خلاف قانونی کاررروائی کی جائے۔ آخر میں علامہ مقصود علی ڈومکی نے بیس نکات پر مبنی یاداشت صدر مملکت کو پیش کی۔
مجلس وحدت مسلمین بلوچستان کے سیکرٹری جنرل علامہ مقصود علی ڈومکی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شیعہ، سنی مسلمانوں کے درمیان صدیوں سے بردرانہ تعلقات اسلامی اخوت پر مبنی ہیں۔ کچھ عرصہ سے شرپسند عناصر سامراجی ایجنڈے کی تکمیل کرتے ہوئے مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت کو فروغ دے رہے ہیں اور یہ گروہ نفرت پر منبی کارروائیاں کر رہے ہیں۔ جو حکومت کی کارگردگی پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ان شرپسند عناصر کا تعاقب کرے اور مسلمانوں کے درمیان بھائی چارے کے فروغ کے لئے ٹھوس اقدامات کرے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں قیام امن کے لئے علمائے کرام حکومت کے دست بازو بننے کے لئے تیار ہیں۔ شیعہ علماء کونسل کے رہنماء نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ کے اندر شیعہ نسل کشی کا نہ رکنے والا سلسلہ جاری ہے۔ اس قتل قتال کو روکنے کے لئے ٹھوس بنیادوں پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت دہشت گردوں کے خلاف سنجیدہ کارروائی کرے اور انہیں لگام دے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن کو مزید تیز کیا جائے۔ یہ آپریشن اس وقت تک جاری رہنا چاہیئے جب تک کہ دہشت گردوں کا نیٹ ورک ختم نہ ہو جائے۔ جمیعت علمائے پاکستان کے رہنماء مفتی غلام محمد قادری نے کہا کہ بلوچستان میں اہل تشیع کی طرح بریلوی اہل سنت کو بھی ظلم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ہمارے پیر، گدی نشینوں کو قتل کی دھمکیوں کے ساتھ ساتھ ہمارے علمائے کرام کی شہادتوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ صدر آصف علی زرداری نے علمائے کرام سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت دہشت گردی اور دہشت گردوں کے خاتمے میں سنجیدہ ہے۔ حکومت اس حوالے سے ٹھوس حکمت عملی رکھتی ہے اور دہشت گردوں کا قلع قمع کرکے دم لے گی۔ ایم ڈبلیو ایم کے صوبائی سیکرٹری جنرل علامہ مقصود علی ڈومکی نے "اسلام ٹائمز" کو بتایا کہ صدر مملکت نے واضح طور پر کہا کہ دہشت گرد اور شدت پسند ٹولہ مجھے اور میری پارٹی کو اس لئے پسند نہیں کرتا کیوں کہ میں اور میری پارٹی پرو شیعہ ہیں۔
انہوں نے علمائے کرام کو یقین دلایا کہ حکومت علمائے کرام کی مدد اور حمایت سے دہشت گردی کو ختم کرے گی۔ ملت جعفریہ کے روحانی پیشوا حضرت آیت اللہ خامنہ ای سے ملاقات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ملاقات نہایت ہی اہمیت کی حامل تھی۔ جس میں ہم نے ملک و قوم کے مفاد میں فیصلے کیے۔ ایم پی اے رقیہ ہاشمی کی سربراہی میں ایک وفد نے بھی صدر آصف علی زردای سے ملاقات کی۔ جس میں مختلف زعماء اور علمائے کرام بھی شامل تھے۔ کوئٹہ یکجہتی کونسل کی نمائندگی کرتے ہوئے شوکت چنگیزی نے صدر مملکت سے گفتگو کرتے ہوئے بلوچستان میں ملت جعفریہ پر ڈھائے جانے والے مظالم کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ دہشت گردوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے۔ ایچ ڈی پی کے چیئرمین عبدالخالق ہزارہ نے کہا کہ بلوچستان میں قیام امن اور دہشت گرودں کے خاتمے کے لئے ریاستی ادارے سنجیدہ نظر نہیں آتے۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایف سی کی چیک پوسٹوں اور چوکیوں کے قریب دہشت گرد شیعہ افراد کو شہید کرتے ہیں اور بڑے آرام سے فرار ہونے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور ایف سی خاموش تماشائی بنی رہتی ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنماء سینٹر فیصل رضا عابدی نے صدر کی اجازت سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں تمام شیعہ برادری کو اس عظیم مقاومت پر سلام پیش کرتا ہوں اور شہداء کی شہادتوں پر ہدیہ تعزیت پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اس حوالے سے سنجیدہ اقدامات اٹھا رہی ہے اور آپ کے تمام تحفظات کے ازالے کے لئے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ اس دوسری ملاقات میں مجلس وحدت مسلمین کے صوبائی سیکرٹری جنرل علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ حکومتی دعوٰے کے باوجود تکفیری گروہ دہشتگرد ٹولہ کھلے عام پریس کانفرنسنز کرتا ہے اور مکتب اہل بیت (ع) کے بارے میں غلیظ زبان استعمال کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ریاستی ادارے یہ سب کچھ دیکھنے کے باوجود کوئی اقدام نہیں کرتے۔ گورنر ذوالفقار علی مگسی نے کہا کہ یہ شدت پسند ٹولہ صحافی برادری کو دھمکیاں دیتا اور کہتا ہے کہ اگر تم نے ہماری کوریج نہ کی تو ہم تمہیں جان سے مار دیں گے۔ علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ صحافی برادری کو بھی تحفظ فراہم کیا جائے اور جو افراد ان کو دھمکیاں دیتے ہیں اور سینہ زوری سے پریس کانفرنسز کرتے ہیں ان کے خلاف قانونی کاررروائی کی جائے۔ آخر میں علامہ مقصود علی ڈومکی نے بیس نکات پر مبنی یاداشت صدر مملکت کو پیش کی۔