ابنا: سندھ پولیس کے ڈی آئی جی ویسٹ جاوید عالم اوڈھو نے کہا ہے کہ کراچی کے علاقے جعفریہ کالونی سے چار ٹارگٹ کلرز کو گرفتار کرلیا گیا ہے جنہوں نے 30 افراد کے قتل کا اعتراف بھی کرلیا ہے۔ کراچی میں اپنے دفتر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے جاوید عالم اوڈھو نے کہا کہ ملزمان فرقہ وارانہ قتل کی 25 وارداتوں میں پولیس کو مطلوب تھے۔ انہوں نے کہا کہ گرفتار ملزمان نے گلبہار، رضویہ سوسائٹی اور ناظم آباد سمیت دیگر علاقوں میں فرقہ وارنہ قتل کی وارداتوں کا اعتراف کیا ہے۔ ملزمان کے قبضے سے ٹی ٹی پستول اور رائفل بھی برآمد ہوئی ہے۔ جاوید اوڈھو کا کہنا تھا کہ ملزمان کی شناخت سید نعیم حیدر، سید حسین جعفری، سعید جعفری اور اظہر حسین کے نام سے ہوئی ہے اور ان کا تعلق پہلے ایم کیو ایم سے رہ چکا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مذکورہ ٹارگٹ کلرز ایم ڈبلیو ایم سے وابستہ تھے۔
واضح رہے کہ ان افراد کو کچھ دن قبل رینجرز نے ان کے گھروں کے باہر سے اغواء کیا تھا جنہیں بے پناہ تشدد کے بعد انہیں پولیس کے حوالے کیا گیا۔ بعدازاں علامہ مرزا یوسف حسین کی کوششوں سے بعض افراد رہا ہوئے، لیکن چار افراد کو پولیس نے قتل کے مختلف کیسوں میں زبردستی ملوث قرار دے دیا۔ تعجب خیز بات یہ ہے کہ ڈی آئی جی ویسٹ جاوید عالم اوڈھو نے کہا کہ پولیس نے ان افراد کو دوپہر بارہ بجے ایک پولیس مقابلے کے بعد گرفتار کیا جبکہ رینجرز کی جانب سے ان افراد کے اغواء کے خلاف جعفریہ لیگل ایڈ کمیٹی کے سربراہ ایڈوکیٹ تصور حسین رضوی نے عدالت میں پٹیشن بھی داخل کر رکھی ہے۔ اس کے علاوہ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان گرفتار شیعہ افراد کو بعض ایسے قتل کے کیسوں میں ملوث قرار دیا گیا ہے کہ جن کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ ان کیسوں میں سے ایک دستہ امامیہ کے رکن شہید زاہد جعفری کا قتل ہے۔
.....
/169