28 فروری 2013 - 20:30

پاکستان کے سابق صدر اور فوجی آمر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے نگراں حکومت کے قیام کے ایک ہفتے کے اندر وطن واپسی کا اعلان کر دیا ہے۔ پرویز مشرف نے یہ اعلان ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب 16 مارچ کو اسمبلیاں تحلیل ہونے والی ہیں اور نگراں حکومت کا قیام بھی متوقع ہے۔

ابنا: ڈون نیوز کی رپورٹ کے مطابق دبئی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ریٹائرڈ جنرل اور پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ نے کہا کہ ملک انتہائی نازک دور سے گزر رہا ہے اور اس کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے لہٰذا آئندہ دو سے تین ماہ پاکستان کیلیے انتہائی اہم ہیں۔

پاکستان کے سابق صدر نے کہا کہ میری کسی سے دشمنی نہیں، اس وقت ہمیں مفاہمت کی حقیقی پالیسی دکھانے اور اندرونی اختلافات کو ختم کر کے یکجہتی کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے خصوصی طور پر پاکستانی معیشت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملکی معیشت انتہائی خراب ہے، روزگار ختم ہوچکا ہے، فکیڑیاں بند ہو رہی ہیں، ڈالر سو روپے سے اوپر ہو گیا ہے جبکہ بیرونی سرمایہ بھی ملک میں نہیں آرہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ معیشت ٹھیک کیے بغیر کوئی ملک ترقی اور خوشحالی کی راہ پر نہیں چل سکتا، ہمیں معیشت کی صورتحال ٹھیک کرنا ہو گی اور ایسا ممکن ہے کیونکہ پاکستان کے پاس وسائل کی کمی نہیں۔

مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی ہمیں اندر سے کھوکھلا کررہی ہے اور طالبائزیشن نے ملک کو تباہ کر دیا ہے، فرسودہ خیالات کے حامل لوگ دوسروں پر اپنے خیالات مسلط کرنے کی کوشش کررہے ہیں، اسی کی ایک مثال ملالہ کو مارنے کی کوشش ہے، یہ اسلام کو بدنام کرنے کی کوشش ہے اور ان چیزوں سے مغرب میں اسلام کا غلط تاثر جا رہا ہے جسے کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے۔

پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ نے 2014 میں افغانستان سے امریکی انخلا کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ افغانستان سے جارہا ہے اور خطے میں آنے والی تبدیلیوں کا اثر پاکستان پر بھی پڑے گا، اگر ہم تیار نہ ہوئے تو مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

پرویز مشرف نے کہا پاکستان میں اگر مجھ پر مقدمات ہیں تو وہ ان کا سامنا کریں گے، لیکن انہوں نے استفسار کیا کہ ان پر مقدمات کس بات کے لیے قائم کیے گئے۔

انہوں نے سوال کیا کہ “کیا پاکستان کو ترقی دینا جرم ہے، میں نے تعلیم کے شعبے میں ملک کو ترقی دی، آئی ایم ایف کا کشکول توڑا، عوام کی غربت دور کی، قیمتوں کو کنٹرول میں رکھا،عوام کو صحت اور تعلیم دی، خواتین کو بااختیار بنایا، مقامی حکومتوں کا نظام تشکیل دیا ۔۔۔ کیا یہی جرم ہے؟۔

سابق صدر نے کہا کہ گذشتہ آٹھ سال میں میں نے جو کچھ کیا ان میں چار ترجیحات تھیں، سب سے پہلے ملکی اندرونی استحکام، پھر علاقائی امن، بین الاقوامی قبولیت اور ابھرتا ہوا پاکستان۔

انہوں نے مسلم امہ کے یکجا ہونے پر بھی زور دیا، “پاکستان مسلم امہ کی واحد جوہری طاقت ہے لہٰذا سماجی اور اقتصادی ترقی کے لیے مسلم امہ کی رہنمائی کرے”۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں سمجھتا ہوں کہ میرا پاکستان جانا انتہائی ضروری ہے اور میں ضرور پاکستان جاؤں گا۔

پرویز مشرف نے کہا کہ وہ نگراں حکومت بننے کے ایک ہفتے کے اندر پاکستان واپس آجائیں گے اور وہ کراچی یا اسلام آباد ایئر پورٹ پر اتریں گے”۔

انہوں نے کہا کہ آل پاکستان مسلم لیگ آنے والے انتخابات میں بھرپور حصہ لے گی اور اور ہر حلقے سے امیدوار کھڑے کیے جائیں گے۔

انہوں نے اختتام پر کہا کہ ہم ملک میں ملک کی خدمت کرنے والے اور دیانت دار قیادت  اور صاف اور شفاف انتخابات چاہتے ہیں، یہ دونوں چیزیں جب ہی ممکن ہیں جب وہ فوج کی نگرانی میں منعقد ہوں۔