28 فروری 2013 - 20:30

تہران کے موقت امام جمعہ نے آج ۱ مارچ کو نماز جمعہ کے خطبات میں الماتی مذاکرات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: یہ مذاکرات اور ایران کا اقتدار اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران کبھی بھی اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے والا نہیں ہے۔ ملت ایران ایٹمی پاور کی حامل بن چکی ہے اور پر امن ایٹمی انرجی کو اپنا قانونی حق سمجھتی ہے۔


اہلبیت نیوز ایجنسی۔ ابنا۔ حجت الاسلام و المسلمین صدیقی نے آج ۱ مارچ کو تہران کی نماز جمعہ کے خطبات میں الماتی مذاکرات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: یہ مذاکرات اور ایران کا اقتدار اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران کبھی بھی اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے والا نہیں ہے ملت ایران ایٹمی طاقت چکی ہے اور پر امن ایٹمی انرجی کو اپنا قانونی حق سمجھتی ہے۔
تہران کے موقت امام جمعہ نے امریکہ کے صدر کی اس بات کے جواب میں کہ ہم ہر گز ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دیں گے، کہا: ہم رہبر انقلاب کے فتوے کے مطابق ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش بھی نہیں کریں گے رہبر معظم انقلاب ایٹمی ہتھیاروں کی ساخت کو انسانیت مخالف جرم سمجھتے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ ہم پر امن ایٹمی انرجی کی پیداوار پر مصمم ہیں کہا: کوئی بھی ایسی تجویز جو ملت ایران کے حقوق کو پامال کرنے والی ہو قابل قبول نہیں ہے اور کوئی بھی اس طرح کی سازش کرنے کی جرئت بھی نہیں کر سکتا۔
تہران کے خطیب جمعہ نے کہا: ہم اپنے عقیدہ کے مطابق ایٹم ہتھیاروں کو منفورترین چیز سمجھتے ہیں لیکن یورپ اور امریکہ نے ان ملکوں کے ساتھ کیا کر لیا جنہوں نے ایٹمی ہتھیار بنا لیے ؟
حجت الاسلام کاظم صدیقی نے پیغمبر اعظم آٹھ فوجی مشقوں کو کامیاب قراردیتے ہوئے کہا کہ ان فوجی مشقوں کا مقصد ملت ایران کی طاقت اور دفاعی ترقی کی نمائش کرنا تھا جس سے دشمن مایوس ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان فوجی مشقوں کا ایک اور مقصد دشمنوں کو خبردار کرنا ہے کہ ایران پر حملے کا خيال ذہن سے نکال دیں اور انہیں جان لینا چاہیے کہ ملت ایران تمام جارح طاقتوں کے مقابل ڈٹ جائے گي اورہمیشہ کی طرح کامیاب رہے گي۔ خطیب جمعہ تہران نے کہا کہ پیغمبر اعظم آٹھ فوجی مشقوں سے علاقے کے ملکوں کو امن و صلح کا پیغام دیا گيا ہے اور اس بات پر تاکید کی گئي ہےکہ اسلامی جمہوریہ ایران کڑے حالات میں علاقے کی قوموں کے ساتھ رہے گي کیونکہ ایران علاقے کے ملکوں کا خیر خواہ ہے۔