اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،اسلامی تحریک مزاحمت حماس نے فلسطین کے حوالے سے 100 سے زائد فرانسیسی اور برطانوی سفارت کاروں اور سیاست دانوں کی جانب سے اپنی حکومتوں کو لکھے گئے خطوط اور مطالبات کا خیرمقدم کیا ہے۔
حماس کے سیاسی دفتر کے رکن باسم نعیم نے کہا کہ فرانسیسی اور برطانوی سفارت کاروں اور سیاست دانوں کا فلسطین کے حوالے سے اپنے ممالک کی حکومتوں پر عملی اقدامات کے لیے زور دینا قابلِ تحسین ہے۔
ان افراد نے اپنے کھلے خطوط میں اپنی حکومتوں سے مطالبہ کیا تھا کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے فیصلے کو محض سیاسی اعلان تک محدود رکھنے کے بجائے فلسطینی کاز اور سیاسی حل کی حمایت کے لیے عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
فرانسیسی اور برطانوی سفارت کاروں و سیاست دانوں نے خبردار کیا کہ فلسطین ہماری آنکھوں کے سامنے مٹ رہا ہے اور جنگی جرائم کے مرتکب افراد کے خلاف بین الاقوامی عدالتوں کے احکامات کے مطابق قانونی کارروائی ضروری ہے۔
برطانوی حکومت سے خطاب میں متعدد سفارت کاروں اور سیاست دانوں نے اسرائیل کو اسلحے کی منتقلی معطل کرنے، اس کے ساتھ فوجی تعاون روکنے اور صہیونی بستیوں کے خلاف اقدامات کا مطالبہ بھی کیا۔
ان کے مطابق غزہ میں تباہی اور فلسطینی آبادی کے خاتمے کی اسرائیلی پالیسی، جبکہ مغربی کنارے میں آبادی کی منتقلی اور نسلی صفائی کے اقدامات کے پیش نظر برطانوی حکومت کو اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے۔
دوسری جانب شمالی رام اللہ میں صہیونی آبادکاری میں بھی توسیع جاری ہے۔ صہیونی آبادکاروں نے قابض فوج کی کھلی حمایت کے تحت المزرعہ الشرقیہ کے علاقے میں فلسطینی شہریوں کی زرعی اراضی پر قبضہ کرتے ہوئے غیر قانونی بستیوں کو مزید پھیلانا شروع کر دیا ہے۔
آپ کا تبصرہ