27 فروری 2013 - 20:30

مجلس وحدت مسلمین نے ملک میں جاری دہشتگردی کیخلاف امن واک کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس میں مختلف مکاتب فکر کے علماء، سول سوسائٹی، وکلاء برادری اور انسانی حقوق کی تنظیمیں شرکت کریں گی، امن واک کا عنوان ’’دہشتگردی سے پاک پاکستان‘‘ رکھا گیا ہے۔ اس حوالے سے مرکزی کابینہ کے رکن سید فضل عباس ایڈووکیٹ کو مرکزی کوآرڈینٹر بنا دیا گیا ہے۔ امن واک کرنے کا فیصلہ ایم ڈبلیو ایم کی مرکزی کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا۔

ابنا: صوبائی دفتر لاہور میں ہونے والے اس اجلاس میں چاروں صوبوں سمیت گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے سیکرٹری جنرل نے بھی شرکت کی۔ اسلام ٹائمز کے رابطہ کرنے پر فضل عباس ایڈووکیٹ نے بتایا کہ امن واک کی تاریخ فائنل نہیں کی گئی، ہر صوبے کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اپنی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے امن واک کا اہتمام کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام صوبے جلد ہی اپنی کابینہ سے مشاورت کے بعد تاریخ کا اعلان کر دیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے تمام اضلاع میں امن واک کا اہتمام کیا جائیگا۔

 مرکزی کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مرکز کی طرف سے ایک وفد مستقل طور پر کوئٹہ میں رہے گا، جو شہداء کے خانوادوں سے ملاقاتیں کرے گا  مذکورہ وفد حکومت کی طرف سے اٹھائے جانے والے اقدامات اور امن کی صورتحال کا بھی جائزہ لے گا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ شہداء کوئٹہ کے لواحقین ملک کے تمام اضلاع میں اظہار تشکر کیلئے آنا چاہتے ہیں، لواحقین کی خواہش ہے کہ جس انداز میں پورے ملک میں قوم نے دھرنے دئیے اور ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کی، اس پر وہ ان کے پاس آکر شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ شہداء کے ورثاء کی اس خواہش پر انہیں ملک کے مختلف اضلاع میں وزٹ کرایا جائیگا۔ اجلاس میں ڈیرہ اسماعیل خان میں مسنگ پرسن کا مسئلہ بھی اٹھایا گیا اور قانونی چارہ جوئی کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

......

/169