ابنا: عراقي ذرائع کے مطابق الصدر گروپ کے مرکزي رہنما مقتدي صدر نے اپنے ايک بيان ميں ملک کے بعض صوبوں ميں ہونے والے عوامي مظاہروں کا حوالہ ديتے ہوئے مظاہرين سے اپيل کي ہے کہ وہ مظاہروں کے دوران تفريق آميز اور تعصبات پر مبني نعرنے نہ لگائيں-بيان ميں کہا گيا ہے کہ حکومت عراق کي ذمہ داري ہے کہ وہ مظاہرين کے جائز مطالبات کي تکميل کے لئے اپني پوري توانائياں بروئے کار لا رہي ہے جو باعث اطمينان ہے-مقتدي صدر نے عوامي مظاہروں کو پرامن رکھنے کي اپيل کرتے ہوئے کہا کہ عوامي تحريکوں کي اصل خصوصيت ان کا پرامن ہونا ہے اور يہي ان تحريکوں کي کاميابي کي ضامن ہے-واضح رہے کہ عراق کے صوبوں، الانبار، نينوا، صلاح الدين، کرکوک، ديالہ اور بغداد کے مختلف علاقوں ميں گزشتہ دسمبر سے مظاہروں کا سلسلہ جاري ہے جس کے دوران سابق عراقي ڈکٹيٹر کي جماعت بعث پارٹي کے ارکان کے مواخذے اور ان پر مقدمات چلائے جانے کے خصوصي قانون کو منسوخ کرنے اور عام معافي کا قانون منظور کئے جانے کا مطالبہ کيا جارہا ہے-عراق کي مرکزي حکومت نے نائب وزير اعظم حسين شہرستاني کي قيادت ميں ايک کميٹي تشکيل دي ہے جو مظاہرين کے تمام مطالبات کا بغور جائزہ لے رہي ہے-مذکورہ کميٹي نے گزشتہ ہفتے دوہزار چارسو پچاسي قيديوں کو رہا کرنے کا اعلان کيا تھا-
.......
/169