ابنا: شام کے صدر بشار اسد نے اپنے ايک انٹرويو ميں کہا ہے کہ شام ميں دوسال سے جاري بدامني مغرب اور اس کے اتحاديوں کے حمايت يافتہ دہشتگرد گروہوں کي دين ہےانہوں نے کہا ہے کہ شام کے سيکورٹي اہلکار اور فوجي صرف دہشتگردوں کے خلاف کاروائياں انجام ديتے ہيں - انہوں جرمن ٹي وي سے اپني گفتگو ميں کہا کہ ملک ميں کشمکش حکومت نے شروع نہيں کي ہے بلکہ يہ دہشتگرد گروہ ہيں جو عوام کا قتل عام اور ملک کي بنيادي ڈھانچہ تباہ کررہے ہيں –صدر اسد نے مخالفين کے ليے مالي اور اسحلہ جاتي امداد کي بندش کو اپني حکومت اور مخالفين کے درميان مذاکرات کي کاميابي کي کنجي قرار دياانہوں نے ملک ميں سرگرم دہشتگرد گروہوں کي سرگرميوں کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جب تک ملک ميں غير ملکي حمايت يافتہ مسلح گروہ کام کر رہے ہيں اچھي صورتحال کي اميد نہيں کي جاسکتي- انکا کہنا تھا کہ مسلح دہشتگرد گروہوں کي ڈورياں ملک کے باہر سے ہلائي جارہي ہيں-صدر اسد نے اس حوالے سے خاص طور پر ترکي کي شام مخالف پاليسيوں پر کڑي نکتہ چيني کرتے ہوئے کہا کہ انقرہ نے اپني سرزمين ميں نيٹو سے پيٹرياٹ ميزائل نصب کرنے کي درخواست محض اس لئے کي ہے کہ تاکہ شام کو عالمي رائے عامہ کے سامنے ايک خطرہ بنا کر پيش کيا جاسکے-يہ ايسي حالت ميں ہے کہ شام ميں لڑنے والے مسلح دہشتگردوں کے لئے زيادہ اسلحہ اور فوجي سازو سامان امريکہ، مغربي ملکوں، خطے کے بعض عرب ممالک اور ترکي کي جانب سے فراہم کيا جارہا ہے جسکي وجہ سے شام کي بدامني شدت اختيار کرگئي ہے-دوسري جانب شام کےوزيراعظم وائل حلقي نے دمشق يونيورسٹي کے اساتذہ اور ديگر تعليمي اسٹاف کے ساتھ ايک ملاقات کے دوران يہ بات زور ديکر کہي ہے کہ انکي حکومت مخالفين سميت ملک کے تمام عوامي طبقات اور سياسي جماعتوں سے بات چيت کے لئے تيار ہے-شام کے وزيراعظم نے اپنے ملک کے اندروني معاملات ميں غير ملکي مداخلت پر بھي کڑئي نکتہ چيني کي-ادھر شام کے وزيراطلاعات و نشريات عمران الزعبي نے حکومت کي جانب سے مذاکرات کي پيشکش کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مخالفين کي جانب سے ہتھيار ڈالنا مذاکرات کي اولين شرط ہے-انہوں نے شام کے حوالے سے ترکي کے منفي کردار پر کڑي نکتہ چيني کرتے ہوئے کہا کہ شامي عوام کے قتل عام ميں ترکي بھي برابر کا شريک ہے-ايک ايسے وقت ميں جب شام کي زيادہ تر جماعتيں اور گروہ نيز بين الاقوامي قريق ، اس ملک کے بحران کو سياسي مذاکرات کے ذريعے حل کيے جانے پر زور دے رہے ہيں، ترکي ، امريکا کي ہاں ميں ہاں ملاتے ہوئے حکومت شام اور اس کے مخالفين کے درميان کسي بھي قسم کے مذاکرات کي مخالفت کرتا چلا آرہا ہے-اس حوالے سے ترک حکام اور خاص طور سے وزيراعظم رجب طيب اردوغان شام کے اندروني معاملات ميں مداخلت جاري رکھنے اور حکومت شام اور اسکے مخالفين کے درميان مذاکرات کو ناکام بنانے کے لئے ايڑي چوٹي کا زور لگا رہے ہيں -
.......
/169