ابنا: رسا نیوزایجنسی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ، مرجع تقلید حضرت آیت الله ناصر مکارم شیرازی نے آج صبح اپنے درس خارج فقہ کے اغاز پر جو سیکڑوں طلاب و افاضل حوزہ کی شرکت میں منعقد ہوا پاکستان اور عراق میں شیعوں کے قتل عام کی شدید مذمت کی ۔ انہوں ںے بیان کیا: گذشتہ ھفتہ تقریبا 500 پاکستانیوں اورعراقیوں نے شدت پسند ، حیوان صفت اور قاتل وھابیوں کے ہاتھوں جام شھادت نوش کیا اور زخمی ہوگئے ۔حضرت آیت الله مکارم شیرازی نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ ایک ھفتہ میں جاں بحق ہونے والے یا مجروحین کی یہ تعداد کم نہیں ہے ، انسانی حقوق کے دعویداروں اور عالمی مراکز کی خاموشی پر شدید تنقید کی اور کہا : یہ اس بات کا بیان گر ہے کہ اس طرح کے پروگرام اور اقدامات کا سلسلہ جاری و ساری ہے اور دنیا بھی مکمل خاموشی کے عالم میں ہے ، اگر ان کا ایک بھی مارا جاتا تو پھر ان کے میڈیا اور پروپگنڈے کے مراکز اتنا زیادہ شور و غل مچاتے کہ گویا آسمان زمین پر گر پڑا ہو مگر پانچ سو افراد جاں بحق اور زخمی ہوگئے اور ان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی ۔ اس مرجع تقلید نے مزید کہا: کبھی کہتے ہیں کہ ھم نے محکوم کیا ہے مگر یہ کافی نہیں ہے ، مشھور یہ ہے کہ سعودی حکومت اور قطر مالی حمایت اور امریکا بھی ان وھابیوں کی حوصلہ افزائی کرنے میں مصروف ہے اور جس کی نشانیاں ظاھر ہیں ۔حضرت آیت الله مکارم شیرازی نے عراق اور پاکستان کی جنایتوں اور اس کے پس پردہ عوامل و اسباب کی تحقیق میں ایک تحقیقاتی گروپ کی تشکیل کی درخواست کرتے ہوئے کہا: اس سلسلہ میں تحقیق کی جائے کہ امریکا ، سعودیہ ، قطر اور احتمالا ترکی نے دھشت گردوں کی مالی حمایت تو نہیں کی ہے اور اگر ثابت ہوجائے تو اقوام متحدہ این حکومتوں کو سزائیں دینے کا بھی اعلان کرے ۔انہوں نے یاد دہانی کی : ھم اس جنایت کی شدید مذمت کرتے ہیں، اور ھماری تاکید یہ ہے کہ اس طرح اقدمات ان افراد کا پیشہ جو اسلامی قانوانین ، اخلاقیات اور انسانیت سے دور ہیں اور کسی بھی چیز کے پایبند نہیں ہیں ۔ حوزہ علمیہ قم میں درس خارج فقہ استاد نے کہا: سبھی عراقی اور پاکستانی برادران اور خواھران سے ھمدردی کا اظھار کریں ، میں خود ان کے غم میں برابر سے شریک ہوں ، رات و دن نماز کے قنوت اور نماز کے بعد مسلمانوں خصوصا اھلبیت علیھم السلام کے ماننے والوں کے سر سے اشرار کے شر کی دوری کی دعا کرتا ہوں ۔اس مرجع تقلید نے تاکید کی: ھم عجب دنیا میں زندگی بسر کرتے ہیں ، تہذیب کے نام پر بدترین وحشی گری کا رواج ہے ، کچھ بیٹھے ہوئے دیکھ رہے ہیں اور افسوس آھستہ آھستہ یہ مسائل معمولی شکل و صورت اختیار کرلیتے ہیں ، خدا سے دعا ہے کہ ان افراد اور ان کے حامیوں کی جڑیں سکھا دے ۔حضرت آیت الله مکارم شیرازی نے اپنی تقریر کے دوسرے حصہ میں یہ کہتے ہوئے کہ اسلامی نظام کی حفاظت کی قیمت چکانی پڑتی ہے جس کا ادا کرنا نہایت ضروری ہے کہا: اسلامی نظام کی اس دور میں حفاظت جب سبھی سیکولر، خدا اور اسلام مخالف ہوں تو آسان کام نہیں ہے ، مشکلات کا مقابلہ کریں اور اسلامی نظام کی حفاظت کی قیمت ادا کریں ۔اس مرجع تقلید نے کہا: اس دنیا میں بعض عرب حکومتیں بڑی آسانی کے ساتھ عالمی سامراجیت اور ڈیکٹیٹر حکومتوں کے سامنے تسیلم اور اپنی ملتوں کی نابودی کے درپہ ہیں ایسے میں اسلامی عزت اور استقلال کی حفاظت کی جائے اور اس کے محقق ہونے میں خرچ درکار ہے ۔
19 فروری 2013 - 20:30
News ID: 392814
حضرت آیت الله مکارم شیرازی نے گذشتہ ھفتہ پاکستان اور عراق میں شیعوں کے قتل عام اور ان بدترین جنایتوں کے مقابل عالمی انسانی حقوق کی خاموشی کی شدید مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ سے ان جنایتوں کے سلسلہ میں تحقیقاتی گروپ کی تشکیل اور دھشت گرد موافق حکومتوں کی سزا کی درخواست کی ۔