19 فروری 2013 - 20:30

کوئٹہ کو فوج کے حوالے کئے جانے پر شہدا کے ورثا کا اصرار، لوگ دوبارہ سڑکوں پر آگئے ہیں۔

ابنا: اطلاعات کے مطابق اس قبل بتایا گیا تھا  ہزارہ برادری اور اس سانحہ میں شھید ہونے والےافراد کے لواحقین کی جانب سے تین روز سے جاری دھرنا، مذاکراتی کمیٹی اور شیعہ عمائدین کے ساتھ مذاکرات کے بعد ختم کرنے کااعلان کردیاگیا ہے۔
کوئٹہ سے موصولہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کےوزیراعظم راجہ پرویز اشرف کی جانب سے وفاقی وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ کی سربراہی میں چھ رکنی کمیٹی سانحہ ہزارہ ٹاون میں شھید ہونے والے افراد کے لواحقین اور شعیہ مسلمانوں سے اظہار یکجہتی،  دھرنا ختم کرنے اور اپنے پیاروں کی تدفین کے لئے آمادہ کرنے کے لئے کوئٹہ پہنچی تھی۔
کمیٹی کی یقین دہانی کے بعد مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی رہنما علامہ امین شہیدی نے یکجہتی کونسل رہنماؤں کے ہمراہ کوئٹہ سمیت ملک بھر میں دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا تاھم تازہ شھدا کے ورثا نے کوئٹہ شھر کو باضابطہ طور پر فوج کے حوالے کئے جانے تک دھرنا برقرار رکھنے پر اصرار کیا جس کو دیکھتے ملت جعفریہ کے عمائدین اور عوام نے دھرنے کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق کوئٹہ سمیت ملک کے مختلف مقامات پر دوبارہ دھرنا شروع ہوگیا ہے۔ واضح رہے کہ ہفتہ کے روز کوئٹہ کے علاقے کیرانی میں ہونے والے 1000 کیلو گرام کے خوفناک بم دھماکے میں اب تک 114 شیعہ مسلمان شھید اور 200 سے زائد زخمی ہوئے جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ھیں۔

.......

/169