ابنا: پاکستان کے مخۃلف شہروں میں شیعوں کے خلاف سلفی وہابی دہشت گردوں کی بربریت کا سلسلہ جاری ہے پاکستان کےصوبہ پنجاب میں سلفی دہشت گردوں نے ایک شیعہ ڈاکٹر کو اس کے 12 سالہ بیٹے سمیت فائرنگ کرکے شہید کردیا ہے ادھر کوئٹہ میں سلفی وہابی دہشت گردوں کے حملے میں شہید ہونے والے افراد کی تعداد 110 ہوگئی ہے، شہداء کے ورثاء نے شہیدوں کو اس وقت تک دفن کرنے سے انکار کردیا ہے جب تک کوئٹہ کو فوج کے حوالے نہیں کیا جاتا۔ کوئٹہ میں ایک بار پھر 10 جنوری جیسی صورتحال پیدا ہوگئی ہے 16 فروری کو ایک بار پھر سلفی وہابی دہشت گردوں نےہزارہ برادری کو نشانہ بنایا ، سانحہ کیرانی میں جاں بحق افراد کے لواحقین اور ہزارہ برادری کے مرد و خواتین کی بڑی تعداد نے کوئٹہ کے ہزارہ ٹاوٴن اور علمدار روڈ پر اپنے پیاروں کی میتوں کے ساتھ دھرنا دے رکھا ہے، وہ سراپا احتجاج ہیں ، اس احتجاج میں ان کے ہمراہ ان کے بچے بھی شریک ہیں، دوسری جانب واقعے میں جاں بحق افراد کی تعداد 110 ہوگئی ہے، شہداء میں سے اب تک 73 افراد کی شناخت ہوچکی ہے جن میں 16 خواتین بھی شامل ہیں۔ باخبرذرائع کے مطابق سلفی وہابی دہشت گرد شیعوں کےاہم اور ممتاز افراد کو اپنی بربریت کا نشانہ بنا رہے ہیں یا شیعوں کی مذہبی تقریبات کو اپنے ہولناک جرائم کا نشانہ بناتے ہیں۔ ذرائعکے مطابق جب تک سلفی وہابی دہشت گرد مدرسوں کو تالا نہیں لگایا جائے گا تب تک پاکستان میں دہشت گردی کا سیلاب رک نہیں سکتا، دہشت گردوں کے سرپرستوں اور شیعوں کے قتل کے لئے فتوی دینے والے سلفی ملاؤں کو جب تک کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جائے گا تب تک پاکستان میں شیعوں کا قتل عام بند نہیں ہوسکتا۔
.......
/169