12 فروری 2013 - 20:30

اسلامی جمہوریۂ ایران کی ایٹمی انرجی کے سربراہ نے ایران اورآئی ، اے ، ای ، اے ، کے مابین آٹھویں دور کے مذاکرات کے آغاز سے ایک دن قبل اس اہم بین الاقوامی ادارے سے ایران کے ساتھ معاملات پر مزید غور و فکر کا مطالبہ کیا ہے –

ابنا: ایران کی ایٹمی توانائی کے سربراہ جناب فریدون عباسی نے آج کہا کہ آئی اے ای اے کے ڈائرکٹرز کو اس بات پر توجہ دینی چاہیئے کہ ان کے زیر نظر ادارہ بحد کافی سلامتی سے بہرہ مند نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریۂ ایران نے بارہا اس نکتے کو گوش گذار کرایا ہے اور آئی اے ای اے کے حکام کو چاہیئے کہ ایران کے ساتھ معاملات کے طریقۂ کار پر مزید غور کریں –
جناب عباسی نے کہاکہ ایران اور آئی اے ای اے کے مذاکرات میں دو طرفہ اطمیئنان کے حصول اور شکوک و شبہات ختم کرنے کے لئے اختلافی باتوں سے پرھیز کیا جائے –
آئی اے ای اے میں ایران کے نمائندے جناب علی اصغر سلطانیہ کے اعلان کے مطابق ایران اور جوہری توانائی کی عالمی ایجنسی کے نمائندوں کے درمیان آٹھویں دور کے مذاکرات کل بدھ کو تہران میں شروع ہورہے ہیں ۔ ساتویں دور کے مذاکرات بھی 16 اور 17 جنوری کوتہران میں ہی منعقد ہوئے تھے ، اور فریقین  نے مذاکرات کے اختتام پر اتفاق کیا تھا کہ 13 فروری 2013 کو ایک بار پھر تہران میں مذاکرات کا اگلا دور انجام پائے۔
جناب علی اصغر سلطانیہ نےایران اور آئی اے ای اے کے ساتویں دور کے مذاکرات کے اختتام پر ان مذاکرات کو مثبت قرار دیا تھا اور ساتھ ہی کہا تھا کہ ایران ، آئی اے ای اے کے ساتھ مذاکرت میں اپنےسیکورٹی اورسیاسی تحفظات کو مد نظر رکھتا ہے ۔
ایران نے بارہا اعلان کیا ہے کہ مشرقی تہران کی پارچین فوجی سائٹ میں کسی قسم کی ایٹمی سرگرمی انجام نہیں پا رہی ہے اور اس سائٹ میں ایٹمی سرگرمیاں انجام پانے کے حوالے سے پیش کئے گئۓ دعوے میں کوئی صداقت نہیں پائی جاتی ہے ۔ باوجودیکہ پارچین کے فوجی مرکز میں کسی قسم کی فوجی سرگرمی انجام نہیں پا رہی ہے پھر بھی ایران نے اپنی نیک نیتی ثابت کرنے کے لئے دو مرتبہ آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کو اس مرکز کےمعائنے کی اجازت دی ہے ۔
جناب سلطانیہ کے بقول آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں نے 2004 اور 2005 میں دو مرتبہ پارچین سائٹ کاا نتخاب کیا اور ایران نے انہیں ان کے مد نظر مقامات کے معائنے کی اجازت بھی دے دی ۔ ایران نے ایٹمی مسئلے میں ہیمشہ آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون کیا اور اپنی نیک نیتی  کا ثبوت پیش کیا ہے ۔ لیکن آئی اے ای اے نے ہمیشہ اپنے قوانین سے ہٹ کر اور غلط رپورٹوں کو بنیاد بنا کر، ایران کی پر امن ایٹمی سرگرمیوں کو مشکوک بتایا ہے ۔
آئی اے ای اے ایسی حالت میں ایران کی ایٹمی سرگرمیوں کے سلسلے میں شبہ ظاہر کر رہی ہے کہ اس ایجنسی  کے معائنہ کاروں نے بارہا اور بارہا ایران کی ایٹمی تنصیبات کا معائنہ کرنے کے بعد بھی ، کہ جو آئی اے ای اے کی تاریخ میں ایک ریکارڈ ہے ، سویلین مقاصد سے ہٹ کر کسی انحراف کی علامت کا مشاہدہ نہیں کیا ہے ۔
بعض مغربی ممالک خاص طور پر امریکہ اپنے بے بنیاد وں کے ذریعے ایران کی ایٹمی سرگرمیوں میں فوجی پہلو کا ذکر کرکے یہ چاہتے ہیں کہ آئی اے ای اے کے فرائض اور اختیارات کو تکنیکی شعبے سے سکورٹی اور اطلاعات کے شعبے میں تبدیل کر دیں اور اس طرح سے آئی اے ای اے کے ممبر ممالک کی قومی سلامتی کے قلمرو میں کسی محدودیت کے بغیر داخل ہو جائیں ۔
آئی ، اے ، ای ، اے ، میں ایران کے نمائندے جناب علی اصغر سلطانیہ نے اسی بناء پر یہ اعلان کیا ہے کہ ایران ، آئی اے ای اے کے ساتھ مذاکرات میں اپنے سکورٹی اور سیاسی تحفظات کو مد نظر رکھتا ہے ۔
آئی اے ای اے کو بھی چاہیئے کہ وہ اسی اہم اصول کے پیش نظر اسلامی جمہوریۂ ایران کے ساتھ مذاکرات میں سیاسی و سیکورٹی تحفظات کو مد نظر قرار دے تاکہ ایٹمی مسئلے کے سلسلے میں آئی اے ای اے کے ساتھ جامع اتفاق رائے عمل میں آسکے ۔ اسلامی جمہوریۂ ایران کے حکام نے بارہا کہا ہے کہ وہ پر امن ایٹمی توانائی سے استفادے کے ملت ایران کے حق سے ہرگز چشم پوشی نہیں کریں گے اور ایران کا نعرہ بھی یہی ہے " ایٹمی توانائی سب کے لئے " ایٹمی ہتھیار کسی کے لئے نہیں - 

.......

/169