ابنا: امریکی وزارت جنگ نےاعلان کیاہےکہ دفاعی بجٹ میں کمی پرتشویش کی وجہ سے خلیج فارس میں طیارہ برداربحری بیڑوں کی تعداد کم ہوکرایک ہوجائےگی ۔
چنانچہ طیارہ برداربحری بیڑے یواس اس ھری ٹرومین جارجیامیں تعمیرکےبعدواپس نہيں آئےگا۔اس کےساتھ ہی خلیج فارس سے امریکہ کے ایک میزائل لانچربوٹ کاباہرجانابھی حتمی ہوجائےگا۔
گذشتہ برسوں میں امریکی حکام نے انرجی کی سیکورٹی کےبہانے اوربقول خود دشمن ملکوں کامقابلہ کرنےکےلئے،خلیج فارس کی آبی رہگذراورآبنائےہرمز کودنیاکےایک عسکری ترین علاقےمیں تبدیل کردیا ہے۔
اندازےکےمطابق خلیج فارس میں امریکہ اوراس کےاتحادیوں کی فوجی بوٹس کی تعداد بعض اوقات دوسوتک پہنچ جاتی ہے۔ جبکہ دنیاکی ساٹھ فیصد انرجی خلیج فارس اورآبنائےہرمزسےہوکرگذرتی ہے اورصنعتی دنیا اس کےبغیر ترقی نہیں کرسکتی۔ اس وجہ سےامریکہ جنوبی خلیج فارس کےممالک میں فوجی اڈےقائم کرکے یااس کےبحری حدود میں بحری بیڑے تعینات کرکے دنیاکی انرجی کےمرکزکواپنےہاتھ میں لیناچاہتاہے۔
البتہ اس طرح کی پالیسی صرف مشرق وسطی سےمختص نہيں ہے بلکہ امریکہ نےگذشتہ ستربرسوں میں مشرقی ایشیاسےلےکرافریقہ تک اورمشرقی یورپ سےلےکربراعظم امریکہ کےجنوب تک فوجی اڈےقائم کئےہيں۔عسکریت پسندی کایہ جذبہ، امریکہ کافوجی بجٹ دنیا کےدوسو ملکوں کےفوجی بجٹ کےبرابرہونےکاباعث بنا ہے۔جبکہ امریکی فوج کےاہلکاروں کی تعداد، جس کی آبادی تقریباتیس کروڑ ہے چین کےفوجیوں کی تعداد سےکچہ ہی کم ہے جس کی آبادی ایک ارب تیس کروڑ ہے ۔اتنی بڑی تعداد میں فوجیوں اور جدیدترین جنگی سازوسامان کےرکھ رکھاؤ کےلئےامریکی عوام کوبھاری بوجھ برداشت کرنا پڑرہا ہے۔اس وقت امریکی فوج کابجٹ تقریباسات سوارب ڈالر ہے جودوسرےتمام سرکاری اداروں کےبجٹ کاایک تہائی ہے۔سالانہ بجٹ کےعلاوہ دنیاکےمختلف علاقوں میں امریکہ کی چھیڑی ہوئی جنگوں پرآنےوالےاخراجات نےامریکی ٹیکس دہندگان کی کمرتوڑ دی ہے یہاں تک کہ صرف عراق جنگ میں دوہزارتین سےلےکردوہزارنوتک سات سوارب ڈالرسےزیادہ کاخرچ آیا ہے۔
اس وقت جب امریکہ مالی تباہی کی کگار پرکھڑا ہے اس پرسولہ ٹریلین ڈالرسےزیادہ کاقرض چڑہ چکا ہے ،اس صورت حال کےپیش نظر امریکہ کےاعلی حکام کےپاس فوجی اورجنگی امورسمیت مختلف شعبوں میں اخراجات میں کمی کےسواکوئی چارہ نہيں ہے۔
اگرآئندہ دومہینوں کےدوران وہائٹ ہاؤس اورکانگریس کےدرمیان سرکاری اخراجات میں کمی پراتفاق نہيں ہوجاتاتو جاری سال میں حکومت کوچھ سوارب ڈالرتک، اخراجات کم کرنےپڑیں گےکہ جس میں وزارت دفاع کاحصہ پچاس ارب ڈالر ہوگایعنی امریکی وزارت جنگ کےبجٹ میں پچاس ارب ڈالر کی کمی آجائےگی۔
چنانچہ پینٹاگون بھی مجبور ہوگیاہےکہ اپنےفوجی اخراجات کم کرنےکےپروگراموں پرعمل کرے جس میں بعض فوجی یونٹوں کوملک میں واپس بلاناشامل ہے۔
اس کےباوجود امریکہ کی جنگ پسندی اورفوجی مہم جوئیوں میں دلچسپی کےپیش نظربعیدنظرآتا ہےکہ امریکہ کےفوجی بجٹ میں موجودہ کفایت شعاری سےعالمی حالات اوراسلحےوجنگ کی جانب بڑھنےکےسلسلےمیں اس کےطرزفکرمیں کوئی تبدیلی پیداہوگی ۔.......
/169