4 فروری 2013 - 20:30

صدر مملکت نے ايک غير ملکي ٹي وي چينل سے گفتگو ميں ايران کے اسلامي انقلاب کو تمام اقوام سے متعلق بتاتے ہوئے اہم علاقائي اور بين الاقوامي معاملات ميں ايران کے موقف کي وضاحت کي ہے -

ابنا: صدر ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے پير کي رات لبنان کے  الميادين ٹي وي سے انٹرويو ميں کہا کہ ايران کا اسلامي انقلاب ايک عظيم واقعہ تھا -
انہوں نے کہا کہ اگرچہ يہ عظيم انقلاب ايران ميں آيا ليکن اس کو کسي خاص جغرافيے اور قوم سے مخصوص نہيں کيا جاسکتا- صدر مملکت نے اس انٹرويو ميں مصر کے ساتھ ايران کے روابط کے بارے ميں کہا کہ دونوں ملکوں کے روابط تاريخي حيثيت رکھتے ہيں -
انہوں نے کہا کہ ايران اور مصر اپنے ديرينہ روابط سے چشم پوشي نہيں کرسکتے اور ان کے روابط کا استحکام خطے کے مفاد ميں ہے - انہوں نے کہا کہ ايران اور مصر کے روابط ميں فروغ حالات کو مظلوم فلسطيني قوم کے مفاد ميں تبديل کرسکتے ہيں –
صدر مملکت نے اسي کے ساتھ اعلان کيا کہ ايران مظلوم فلسطيني قوم کي ہمہ گير حمايت ہر حال ميں جاري رکھے گا - انہوں نے کہا کہ اگر خطے کے ممالک متحد ہوجائيں تو اس علاقے ميں بيروني طاقتوں کے لئے کوئي جگہ نہيں رہے گي-
صدر مملکت نے لبنان کے ساتھ ايران کے روابط کے بارے ميں کہا کہ ہم لبنان کي ارضي سالميت اور تحريک مزاحمت کي حمايت جاري رکھيں گے - انہوں نے کہا کہ اگر مصر اور سعودي عرب کے خلاف بھي جارحيت ہو تو ايران ان ملکوں کا بھي دفاع کرے گا - انہوں نے ايران کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے لئے واشنگٹن کي خواہش کے تعلق سے   امريکي نائب صدر جو بائيڈن کے حاليہ بيان کے بارے ميں کہا کہ امريکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے لئے منصفانہ شرائط کي ضرورت ہے –

صدر مملکت نے شام کے حالات کے بارے ميں کہا کہ يہ فيصلہ کرنے کا حق صرف شام کے عوام کو ہے کہ کون اقتدار ميں رہے کون نہ رہے - انہوں نے عراق کے حالات کے بارے ميں کہا کہ بعض مغربي ممالک  عراق کي تقسيم کے درپے ہيں اور علاقے کي بعض حکومتيں ان کي مدد کررہي ہيں –
صدر ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے اپنے اس انٹرويو کے ايک اور حصے ميں کہا کہ تمام اقوام کو حق حاصل ہے کہ آزادي کے ساتھ اپني حکومتوں کا انتخاب کريں اور اس سلسلےميں بحرين، مصر اور فلسطين ميں کوئي فرق نہيں ہے –
.......
/169