2 فروری 2013 - 20:30

امریکی صدرباراک اوبامہ نے اپنی صدارت کےدوسرے دور میں دباؤ اورپابندی کےنام سےموسوم سفارتکاری پرتاکیدکرتےہوئےاپنےنائب جوبائیڈن کوایران کےایٹمی پروگرام کاجائزہ لینےکی ذمہ داری سونپی ہے۔

ابنا: جوبائیڈن نےجو سیکورٹی اجلاس میں شرکت کےلئےمونیخ گئےہوئےہیں کہاہےکہ ان کاملک ایران کےساتھ براہ مذاکرات کےلئےتیار ہے انھوں نےایک ایسےمنصوبےکی بات بھی کی ہے جس کےذریعےوہ بزعم خود ایران کےایٹمی مسئلےکےسفارتی حل کاراستہ کھول سکتےہیں۔انھوں نےکہاکہ امریکہ، ایران کو ایٹمی ہتھیارحاصل نہيں کرنےدےگا اورتہران کےساتھ پرامن مذاکرات کاراستہ ہمیشہ کےلئےکھلانہيں رہےگا۔جوبائیڈن کےاس بیان کایورپی یونین نےخیرمقدم کیا ہے اوریورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین اشٹن اورجرمنی کےوزیرخارجہ گیڈو وسٹرولہ نے ان بیانات کی حمایت کااعلان کیاہے۔وہائٹ ہاؤس کےاس اعلی عہدیدار کےبیان کامطلب یہ ہےکہ امریکہ ابھی اپنی اس پالیسی سےپیچھےنہيں ہٹا ہے کہ ایران ، ایٹمی پروگرام حاصل کرنےکی کوشش کررہا ہے اورمغرب کی نظرمیں ایران اب بھی شک کےدائرےمیں ہے لہذا مغرب کےساتھ مذاکرات ان کےمبھم دعوےکی بنیاد پرانجام پانےچاہئے۔درحقیقت امریکہ اپنےاس رویے سے یہ ظاہرکرنےکی کوشش کررہا ہے کہ وہ جھکنےکےلئےتیارہے اوراس نےایساراستہ اختیارکیاہے جومسئلےکےسفارتی طریقےسے حل پرمنتج ہو۔رپورٹوں سےپتہ چلتاہے کہ امریکہ اورصیہونی حکومت نےمونیخ سیکورٹی اجلاس کےبارےمیں بہت کچہ سوچ رکھاہےاوراس موقع کوایران کےایٹمی پروگرام کےخلاف استعمال کرناچاہتا ہے۔ اسی بنا پر بائيڈن نےاپنےبیانات میں سیاسی منصبوبہ پیش کرنےکی آڑ میں یہ ثابت کردیا کہ وہ  ایران کےایٹمی حقوق پرتوجہ دینےکےبجائے، ایران کوخراب کرنےکی کوشش کررہا ہے۔یہ ایسےعالم میں ہےکہ ایران اورگروپ پانچ جمع ایک کےساتھ مذاکرات کےوقت اورمقام میں تبدیلی اوراس سلسلےمیں مغرب کی جانب سےجھوٹی خبریں پھیلائےجانےکی ایران نےسخت تنقیدکی۔ ایران،تقریباآٹھ مہینےپہلےیعنی ماسکواجلاس ختم ہونےکےبعد سےہی مذاکرات کےنئےدورکےلئےتیارتھالیکن مغربی فریق بعض وجوہات کی بناپرجوایران کےلئےاب بھی واضح نہيں ہے ، ہمیشہ مذاکرات سےبھاگتارہا ہے۔اصلی مسئلہ نہ تو مذاکرات کاوقت ہے اورنہ ہی اس کی جگہ بلکہ اصلی مسئلہ یہ ہے کہ گروپ پانچ جمع ایک کے بعض اراکین مذاکرات کےلئےتیارنہيں ہیں ۔ اب امریکی حکام اس حقیقت سےبخوبی واقف ہوچکےہيں کہ روس اورچین ماضي کی مانندمغرب کےپالےمیں نہيں کھیل رہے ہيں اورایران کےایٹمی مسئلےسےلےکرشام کےبحران تک میں کرملین اوربیجنگ مغرب کےموقف سےتضادرکھتےہیں ۔ اوراسی بنا پرامریکی حکام نےبراہ راست مذاکرات کی بات اٹھائي ہے۔اوراس کی کئي وجوہات ہيں پہلی وجہ یہ ہےکہ امریکہ اوراس کےبعض یورپی اتحادیوں کویہ توقع تھی کہ ایران پرپابندیوں کےنتیجےمیں اندرون ملک بدامنی شروع ہوجائےگی لیکن پابندیوں سےعوام، نظام کےخلاف کھڑےہونےکےبجائےمغرب سےمزيدمتنفر ہوگئے۔اوردوسری وجہ یہ ہےکہ امریکہ ایران کےساتھ مذاکرات کےلئےموثراسٹریٹیجی نہيں  پیش کرسکاکیونکہ امریکہ کےرویےکےپیش نظر،اس کا ایران سےمذاکرات کی بات کرنےکاکوئی مطلب نہيں ہے۔درحقیقت امریکہ اس طرح کےمنصوبےپیش کرکےمنطقی اصول کی بنیادپرمذاکرات کےلئےبین الاقوامی توازن کوتبدیل کرناچاہتا ہےسیاسی حلقےبھی ذرائع ابلاغ کےذریعےیہ پیغام دیناچاہتےہيں کہ ایران مذاکرات کےلئےتیار نہيں ہے تاکہ ایران کوبین الاقوامی حلقوں میں ایک خطرہ سمجھاجائے۔

.......

/169