1 فروری 2013 - 20:30

ھم سے کہا گیا کہ آپ انبیاء الھی کی باتوں پر عمل کریں تا کہ وہ آپ کو راستہ دیکھا سکیں ، نہ خود راستہ سے ہٹیں اور نہ کسی کے راستہ کا کانٹا بنیں ، بے دین عالم کا علم مختصر سی مدت میں پہلی اور دوسری عالمی جنگ کا سبب بنا ، اگر دین نے تاکید کی ہے کہ ہرگز ایٹمی اور بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے اسلحوں کے درپہ نہ رہو اور اگر مراجع کرام نے اس طرح کے اسلحوں کو حرام قرار دیا ہے تو وہ اسی دلیل کی بنیاد پر ہے۔

ابنا: اہلبیت خبر رساں ایجنسی نے رسا نیوز کے حوالہ سے نقل کیا ہے کہ مفسر کبیر حضرت آیت‌ الله عبد الله جوادی آملی نے آج مسجد آعظم حرم مطھر حضرت معصومہ قم(س) میں سورہ مبارکہ روم کی تفسیر کرتے ہوئے کہا: اس سورہ میں توحید کے سلسلہ میں متعدد آیتیں آئی ہیں ، کبھی زمین اور کبھی اہل زمین ، آسمان اور اہل آسمان کا ایک ہی جگہ تذکرہ ہے اور کبھی الگ الگ ان کا تذکرہ کیا گیا ہے ، اس کے بعد قیامت کا تذکرہ ہے اور پھر مقصد خلقت و نظام بیان کیا گیا ، اور آخرت میں نیک انسانوں اور گناہ گاروں کے درمیان موجود فرق کا ذکر ہوا ، ایک دن یہ دنیا مٹ جائے گی مگر انسانوں کے اعمال باقی رہیں گے اور ان کا حساب و کتاب ہوگا ۔ انہوں نے سورہ روم کی 25 ویں آیت « وَمِنْ آیَاتِهِ أَن تَقُومَ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ بِأَمْرِهِ ثُمَّ إِذَا دَعَاکُمْ دَعْوَةً مِّنَ الْأَرْضِ إِذَا أَنتُمْ تَخْرُجُونَ؛ اور اس کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ آسمان و زمین اسی کے حکم سے قائم ہیں اور اس کے بعد جب وہ تم سب کو طلب کرے گا تو سب زمین سے یکبارگی برآمد ہوجائیں گے » کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: خداوند متعال نے سورہ فصلت میں فرمایا کہ « ثُمَّ اسْتَوَىٰ إِلَى السَّمَاءِ وَهِیَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلْأَرْضِ ائْتِیَا طَوْعًا أَوْ کَرْهًا قَالَتَا أَتَیْنَا طَائِعِینَ؛ اس کے بعد اس نے آسمان کا رخ کیا جو بالکل دھواں تھا اور اسے اور زمین کو حکم دیا کہ بخوشی یا بہ کراہت ہماری طرف آؤ تو دونوں نے عرض کی کہ ہم اطاعت گزار بن کر حاضر ہیں » یہ تمثیل نہیں ہے بلکہ یہ چیزیں ادراک رکھتی ہیں اور گواہی دیں گی ، زمین جانتی ہے کہ کن لوگوں نے اس پر عبادت کی ہے اور کن لوگوں نے گناہ انجام دیے ہیں ، مسجد جانتی ہے کہ کون پڑوسی خوش ہو کر آیا اور کون پڑوسی نہیں آیا ، خوش ہوکر یا مجبور ہو کر آنے کے حوالے سے ہمارے پاس کوئی ثبوت موجود نہیں ہے، «وَلَهُ مَن فِی السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ کُلٌّ لَّهُ قَانِتُونَ ؛ آسمان و زمین میں جو کچھ بھی ہے سب اسی کی ملکیت ہے اور سب اسی کے تابع فرمان ہیں » زمین وآسمان میں موجود تمام چیزیں اس کے سامنے سر بہ سجود ہیں ، لہذا یہ دو آیتیں اس بات کو بیان کرتی ہیں کہ تمام نظام ھستی خداوند متعال کا مطیع اور فرمانبردار ہیں ، قیامت کے دن جب خداوند متعال انسانوں کو بلائے گا تو سب اپنی قبروں سے نکل کر اس کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے ۔ قران کریم کے اس معروف مفسر نے مزید کہا : ہم سے کہا گیا  کہ آپ انبیاء الھی کی باتوں پر عمل کریں تا کہ وہ آپ کو راستہ دیکھا سکیں ، نہ خود راستہ سے ہٹیں اور نہ کسی کے راستہ کا کانٹا بنیں ، بے دین عالم کا علم مختصر سی مدت میں پہلی اور دوسری عالمی جنگ کا سبب بنا ، اگر دین نے تاکید کی ہے کہ ھرگز ایٹمی اور بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے اسلحوں کے درپہ نہ رہو اور اگر مراجع کرام نے اس طرح کے اسلحوں کو حرام کیا ہے تو وہ اسی دلیل کی بنیاد پر ہے ، ہم مسالمت آمیز جوہری توانائی حاصل کرنا چاہتے ہیں ، ان لوگوں نے اس قدر انسانوں کا قتل عام کیا ہے کہ اب تھک چکے ہیں ، اور پھر دیگر ممالک میں جمہوریت پہونچانا چاہتے ہیں ، البتہ بزرگ انسان دنیا کے ہر کونے میں اور ہر وقت موجود رہے ہیں ، اگر کسی نے انبیاء کی باتیں مانی ہوتیں تو یہ جنگیں وجود میں نہ آتیں ، مشرق وسطی میں ؛ میانمار ، بنگلادیش، سوریہ ، افغانستان اور پاکستان کے لوگ جس سے عرصہ دراز تک گرفتار رہے اور ہیں اور نیز 8 سال تک ہمیں بھی اس میں گرفتار کیا گیا ، خداوند متعال نے اس دنیا کو جنگوں کے لئے پیدا نہیں کیا بلکہ ایک دن وہ آئے گا جب پوری دنیا پر عدل و انصاف کا دور دورہ ہوگا ۔ حضرت آیت ‌الله جوادی آملی نے آیت « وَهُوَ الَّذِی یَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَیْهِ وَلَهُ الْمَثَلُ الْأَعْلَىٰ فِی السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ ؛ اور وہی وہ ہے جو خلقت کی ابتدا کرتا ہے اور پھر دوبارہ بھی پیدا کرے گا اور یہ کام اس کے لئے بے حد آسان ہے اور اسی کے لئے آسمان اور زمین میں سب سے بہترین مثال ہے اور وہی سب پر غالب آنے والا اور صاحب حکمت ہے » کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: فطرتی نظام میں سارا جھان خداوند متعال کے سامنے سر بہ سجود ہے ، خداوند متعال نے حضرت زکریا سے کہا کہ ہم نے تمھیں اس وقت پیدا کیا جب کہ کچھ بھی نہیں تھا ، خداوند متعال نے انسان کو عدم سے وجود بخشا اور اس کے بعد کہا کہ «هَلْ أَتَىٰ عَلَى الْإِنسَانِ حِینٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ یَکُن شَیْئًا مَّذْکُورًا ؛ یقینا انسان پر ایک ایسا وقت بھی آیا ہے کہ جب وہ کوئی قابل ذکر شے نہیں تھا » اور پھر اس سے بالاتر اس کی خلقت کے دیگر مراحل علقہ و مضغہ کا تذکرہ کیا ، موت کے بعد بھی تمام چیزیں موجود ہیں ، روح جو انسانوں کی اساس اور بنیاد ہے ختم نہیں ہوگی ، کائنات میں انسانی ذرات بھی موجود ہیں جنہیں خداوند متعال اکٹھا کرے گا اور ان کا واپس لوٹانا «وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَیْهِ» خلقت سے کہیں زیادہ آسان ہے ۔انہوں نے خداوند متعال کی بے انتہا قدرت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ کوئی کام اس کے لئے آسان ہے اور کوئی کام آسان تر۔ یہ بے معنی ہے انہوں نے کہا: اگر خداوند متعال پوری دنیا کو مٹانا چاہے اور دوبارہ اسے خلق کرنا چاہے«ذَٰلِکَ حَشْرٌ عَلَیْنَا یَسِیرٌ» یہ ایک دشوار کام ہے جس سے سخت کام تصور نہیں کیا جاسکتا ، اوراس سے آسان کام بھی موجود ہے کہ خداوند متعال سایہ کو اکٹھا کرتا ہے ، «ثُمَّ قَبَضْنَاهُ إِلَیْنَا قَبْضًا یَسِیرًا» فرمایا کہ سایہ کو جمع کرنا ھمارے لئے آسان ہے ، پوری دنیا کو مٹا دینا بھی ہمارے لئے آسان ہے ، سورج کی کرنوں کو یکجا کرنا بھی آسان ہے ، لہذا خدا کی لامتناہی قدرت کے آگے یہ بات قابل تصور نہیں کہ کوئی کام آسان ہو یا کوئی کام مشکل ، بعض مفسرین کا کہنا ہے کہ ’’اھون‘‘ ’’ھین‘‘ کے معنی میں ہے ، یعنی ’’اھون‘‘ افضلیت کے معانی سے عاری ہے ، مگر عقلی راستہ کے علاوہ کوئی قرینہ موجود نہیں ہے ، «وَلَهُ الْمَثَلُ الْأَعْلَىٰ» یعنی اگر کوئی صفت یا مثال بیان کی گئی تو وہ تمھیں سمجھانے کے لئے تھی کیوں کہ زمین و آسمان میں برترین اوصاف اس کی ذات سے مخصوص ہیں ۔