29 جنوری 2013 - 20:30

امریکہ کی جانب سےدہشتگردوں کوایک سوپچپن ملین ڈالر کی مدد کارازفاش ہونےکےساتھ ہی شام میں نئےجرائم کاسلسلہ شروع ہوگیاہے۔

ابنا: شامی دہشتگردوں نے ایک ہولناک کاروائی کرتےہوئےپچاس عام شہریوں کوقتل کردیا۔یہ جرائم شہرحلب کےمضافات میں واقع بستان القصرکےعلاقےمیں انجام دیئےگئےہيں ۔ اس سےپہلےشہرحماہ کےریف علاقےمیں مجرمانہ کاروائی کی گئي تھی جس میں دہشتگردوں نےایک گاؤں میں کئي خاندانوں کےافراد کااجتماعی قتل عام کیاتھا۔عالمی رائےعامہ شہرالحولہ کےعلاقےمیں قتل عام کوفراموش نہيں کرسکےہيں، شہرالحولہ میں ہونےوالےقتل عام میں ہشتگردوں نے بچوں کواغواکرکے ان کےہاتھ پیرباندہ دیئےاورپھرانھیں قتل کردیا۔یہ واقعات ایسےعالم میں انجام پارہے ہيں کہ مغربی ممالک ، امریکہ، سعودی عرب ، قطراورترکی شامی عوام کےدفاع کےنام پر اس ملک میں جنگ کی آگ بھڑکارہے ہيں اور دہشتگردوں کو اسلحہ اورفنڈ فراہم کررہے ہيں اوراس طرح شام میں جرائم میں مدد کررہے ہيں۔شام کےامور ميں اقوام متحدہ کےسکریٹری جنرل کےخصوصی نمائندے اخضرابراہیمی نے انتیس جنوری کوسلامتی کونسل میں حاضرہوکرکہاکہ پورےشام میں خوف ودہشت کاماحول ہے اوراس ملک کےبحران کےحل کےلئے کسی طرح کی پیشرفت نظرنہيں آرہی ہے ۔اخضرابراہیمی نےسلامتی کونسل کےاراکین کوخطاب کرتےہوئےنہایت مایوسی کےعالم میں کہاکہ شام سب کی نظروں کےسامنےتباہ ہورہا ہے اورسلامتی کونسل کےاراکین کواس ملک میں خونریزی کاسلسلہ بندکرانےکےلئےمتحدہوجاناجاہئے۔شام کےامور میں اقوام متحدہ کےنمائندے نےکہاکہ یہ ملک ٹکڑےٹکڑے ہورہا ہے اوریہ عمل پورےعلاقےاوردنیاکومتاثرکرےگا۔ اخضرابراہیمی نے سلامتی کونسل سےشام کےمسئلےکےفوری حل کی اپیل کی ۔ شام کےامورمیں اقوام متحدہ کےخصوصی نمائندے کی یہ اپیل ایسےعالم میں سامنےآئي ہےکہ اس ملک کوبحران سےنکالنےکےلئےان کی سفارتی کوششوں میں کوئی خاص پیشرفت نہيں ہوئی ہے۔اس کےباوجود رپورٹوں سےپتہ چلتاہےکہ اخضرابراہیمی جلدہی سلامتی کونسل کےمستقل اراکین سےملاقات کرنےوالےہيں ۔سلامتی کونسل کےمستقل رکن کی حیثیت سےروس اورچین،  اب تک بشاراسد کےبغیر شام کےسیاسی نظام میں تبدیلی کےلئےدمشق کےخلاف فوجی اقدام پرمبنی تمام منصوبوں کی مخالفت کرتےرہے ہيں۔ان سب کےباوجود ، شام کےخلاف مغربی –عربی مشترکہ محاذ اس ملک کےسیاسی نظام کےخلاف اپنےاقدامات کاسلسلہ جاری رکھےہوئےہے۔المنارٹی وی نے رپورٹ دی ہےکہ قطرنےایک برطانوی کمپنی سےاپیل کی ہےکہ وہ شامی فوج کی جانب سے کیمیاوی ہتھیاراستعمال کرنےکافرضی دعوی کرے۔اوراس کی واشنگٹن نےبھی حمایت کی ہے۔شام کےخلاف یہ سازشیں ایسےعالم میں جاری ہیں کہ گذشتہ مہینوں میں شامی حکومت نے اندرون ملک ہرطرح کےقومی مذاکرات پرمبنی سیاسی راہ حل کاخیرمقدم کرتےہوئےدہشتگردوں کامقابلہ کرنےکےلئےعوامی مطالبات پرمبنی سیاسی ڈھانچہ میں ہرطرح کی اصلاح اورتبدیلی کاعزم کرررکھاہے اوراس کےساتھ ہی شام کےمختلف علاقوں کو دہشتگردوں سےپاک کرنےکاعمل جاری رکھےہوئےہے۔

.......

/169