29 جنوری 2013 - 20:30
اتحاد مسلمین اور اسلامی بیداری کے بعض نکتے

٭ وحدت مسلمين قرآن کا حکم ہے اور اس پر عمل کرنا واجب اور اس کو ترک کرنا حرام ہے / مذہب تشیع اور مذہب تسنن کا ایک ہوجانا محال ہے جبکہ شیعہ اور سنی کا ایک ہوجانا واجب ہے۔ یعنی دو مذاہب و مکاتب باقی رہیں گے اور ان کے درمیان علمی بحث جاری رہے گی لیکن بحث کو جھگڑے میں تبدیل کرنا حرام ہے۔

٭ وحدت کے معنی ایک مذہب کا تحلیل  یا نابود ہوجانا، نہیں ہے؛ اور اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ سارے اسلامی مکاتب و مذاہب ایک مکتب و مذہب میں تبدیل ہوجائیں بلکہ وحدت یہ ہے کہ علمی بحث اور افکار و آراء کا تبادل جاری رہے اور اور شیعیان و اہل سنت مشترکہ مفادات اور مشترکہ دینی اصولوں اور عقائد کی بنیاد پر متحد ہوجائیں۔ ٭ شیعہ اگر مسلمانوں کو وحدت کی دعوت دیتے ہیں اس کی بنیاد تقیہ نہیں ہے بلکہ اس کی بنیاد یہ ہے کہ سچائی کے ساتھ کہتے ہیں کہ "ہمارا مفاد اس میں ہے کہ اہل سنت کے ساتھ متحد ہوجاؤں" اور سنیوں سے کہتا ہے کہ دشمنان اسلام سنیوں کے دشمن بھی ہیں اور اتحاد سنیوں کے مفاد میں بھی ہے اور کہیں ایسا نہ ہو کہ بعض سنی کفر و استکبار کی حمایت سے خوشنود ہوجائے اور سوچ لے کہ اگر کسی دن سنی انتہاپسند ـ بالفرض ـ کفر و استکبار کی مدد سے اہل تشیع کو شکست دیں تو سنی مذہب کے پیروکار ان کی جارحیت اور تعرض و تجاوز سے محفوظ رہیں گے اور مستکبرین عالم اسلام کا اقتدار ان کے سونپ دیں گے۔ اور جان لیں کہ سنی انتہاپسندی کے لئے استکبار کی حمایت کے دو اہم مقاصد ہیں:1۔ شیعہ کو شکست دینا؛ کیونکہ وہ شیعہ کو اپنے لئے خطرہ سمجھتے ہیں جس طرح کہ وہ سنی کو بھی اپنے لئے خطرہ سمجھتے ہیں بس ان کو الگ الگ کرکے مارنا چاہتے ہیں۔2۔ اسلامی ممالک کو ایک بار آئندہ کئی صدیوں تک نوآبادیات میں بدلنا۔لہذا اس سلسلے میں جو بھی استکبار و استعمار کے ساتھ تعاون اور ہمراہی کرے گا اور اسلام کے محاذ کو کمزور کرے گا وہ اسلامی ممالک پر استعمار کے تسلط کے جرم میں شریک ہوگا اور یقیناً وہ جب پچھتائیں گے تو چڑیاں کھیت چگ گئی ہونگی۔ شیعہ چاہتا ہے کہ سب جان لیں کہ اگر استکبار اور صہیونیت اہل تشیع کے خلاف جنگ کے بہانے ان کے گھروں میں قدم جمائیں یا انہیں ہتھیار اور مالی امداد دے دے کر قرضوں تلے دبا دیں تو پھر انہيں ہرگز اپنے حال پر نہيں چھوڑیں گے۔ ہوسکتا ہے کہ شیعہ پھر بھی ہمیشہ کی طرح تمام سازشوں اور دشمنیوں سے عہدہ برآ ہوکر پھر بھی زندہ اور پایدار رہیں۔ لیکن استکبار و استعمار کے دوستوں کا گھر پھر ان کا گھر نہ بن سکے گا۔ کیونکہ صرف اتحاد کی صورت میں شیعہ کا گھر شیعہ کے پاس رہے گا اور سنی کا سنی کے پاس اور اتحاد ہی کی صورت میں شیعہ کا گھر اور سنی کا گھر کفر و استکبار کے زیر قبضہ نہیں آئے گا؛ بصورت دیگر مسلمانوں کی آئندہ نسلیں ایک بار پھر اور اس بار کئی صدیوں تک جبر و ستم کی قوتوں کے زیرتسلط ہونگیں۔شیعہ جانتا ہے اور سنی بھی جان لے کہ جن قوتوں نے اسلام فوبیا کا سلسلہ شروع کررکھا ہے اور دنیا والوں کو قرآن اور اسلام سے خوفزدہ کرنے کے لئے کوئی بھی لمحہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتے اور اسلام و قرآن اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کی توہین کرتے ہیں کسی صورت میں بھی اسی دین اور اسی کتاب اور اسی رسول (ص) کے پیروکاروں کا دوست نہیں ہوسکتا مگر یہ کہ بعض مسلمان دعوی کریں کہ ان کا خدا اور رسول اور ان کی کتاب مسلمانوں سے الگ ہے۔٭ اگر تفرقہ اجھا ہے ان لوگوں کے لئے جو سنی ہونے کا دعوی کررہے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ گویا انہیں اہل تشیع کے خلاف لڑنا چاہئے وہ ہمارے اس سوال کا جواب دیں کہ عالمی کفر ان تفرقہ انگیز اقدامات کی حمایت کیوں کرتا ہے؟ کیا علمی کفر کی حمایت کا یہی مطلب نہيں ہے کہ مسلمانوں کے درمیان اختلاف و انتشار کا فتنہ باطل ہے اور غلط ہے؟ ٭ اگر ایک شیعہ کا گلا کاٹنا اسلام کے مفاد میں ہے اور کفر کے لئے نقصان دہ ہے تو پھر استکباری طاقتیں قاتل و خونخوار گروپوں کو مالی امداد کیوں دیتی ہیں اور عالمی استکبار کے مفادات کے محافظ عالمی اداروں کی طرف سے ان کے خلاف کوئی سنجیدہ اقدام کیوں نہیں ہوتا۔ ٭ اگر شیعہ کا گلا کاٹنا اسلام کے دعویداروں کے منظور نظر کسی مذہب کے مفاد میں ہے تو قرآن و سنت میں اس کا منبع کیا ہے؟ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کی سنت سے ایسی کوئی بات ثابت ہوتی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ نے ترویج اسلام کے لئے کتنے لوگوں کے گلے کاٹے؟ وہ مسلمانوں کے گلے کاٹتے ہوئے قرآن مجید کی آیات کی تلاوت کرتے ہیں اور اللہ اکبر کے نعرے لگاتے ہیں سوال یہ ہے کہ کیا انہيں قرآن نے ایسا کرنے کی اجازت دی ہے یا پھر پیغمبر اکرم (ص) نے انہیں حکم دیا ہے کہ وہ اہل قبلہ کے گلے کاٹیں تا کہ ان کا مکتب نشو ونما پائے۔ کفر و استکبار کے علمبردار اسلام فوبیا کے حوالے سے اپنی تشہیری مہم کے ضمن میں زور دے کر کہتے ہیں کہ اسلام کشت و خون اور قتل و غارت کے بدولت اور شمشیر کی طاقت سے فروغ پاچکا ہے اور اسلام کے دعویدار دہشت گرد بھی اپنے منظور نظر مکتب کی ترویج کے لئے سنگدلی اور خونریزی اور درندگی کا سہارا لیتے ہیں۔ کیا ان کا یہ عمل کفار کی تشہیری مہم کے لئے دستاویز فراہم نہیں کرتا؟ کیا یہ کفار کی تشہیری مہم کی تأئید نہیں ہے؟ کیا اتنی قساوت قلبی، خونریزی اور درندگی کے ہوتے ہوئے مذاکرات اور گفت و شنید کی میز پر ممکن ہوگا کہ مسلمان مبلغین مغربیوں کے سامنے کہہ سکیں کہ اسلام ـ تلوار اور طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ ایک عقلی فلسفے اور انسان ساز مکتب کی بنا پر فروغ پاچکا ہے؟ ہم سب جانتے ہیں کہ یہ خونخواری اور درندگی ایسے وقت شروع ہوئی ہے جب اسلام مغرب میں فروغ پانے لگا تھا اور دہشت گردوں نے مغربی اپنے جرائم کے ویڈیوز اور تصویریں بنا کر رو بہ زوال مغربی تہذیب کو سہارا دیا اور اسلام کے فروغ کے سامنے عظیم رکاوٹیں کھڑی کردیں اور فروغ اسلام کی رفتار سست ہوگئی۔ اب مغربی اور صہیونی ذرائع ابلاغ یہ ویڈیو اور تصاویر اپنے مغربی معاشروں کے سامنے رکھ کر ان سے کہتے ہیں کہ "اسلام یہ ہے"!۔ کیا واقعی اسلام یہی ہے؟ البتہ اس میں کوئی شک نہيں ہے کہ مغرب خود ہی مسلم ممالک میں مسلمانوں کے ہاتھوں مسلم کشی کی ترویج کا ذمہ دار ہے اور اس سے وہ کئی محاذوں پر استفادہ کررہا ہے۔ واضح سی بات ہے کہ ان دہشت گردوں نے ابھی تک کسی بھی امریکی یا اسرائیلی کو قتل نہیں کیا اور انھوں نے کبھی بھی اسلام دشمنوں کے خلاف کوئی اقدام نہيں کیا! اور یہ بات نظرانداز کرنا بھی دور از انصاف ہوگی کہ یہ لوگ صرف اہل تشیع کے گلے کاٹتے ہیں بلکہ وہ تو ان سنیوں کو بھی بڑے سکون و اطمینان سے ذبح کرتے یا گولی مارتے ہیں جو ان کے بعض خیالات سے اتفاق نہیں کرتے یا دہشت گردی کی مخالفت کرتے ہیں اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ان کے یہ اقدامات ان کے اپنے عقیدے کے فروغ کا سبب بھی نہيں بن سکے ہیں بلکہ لوگ ان سے نفرت کرتے ہیں لیکن گلہ یہ ہے کہ علماء اور سیاستدان اور حکمران ان کے خلاف نہ فیصلہ کن اقدام کرتے ہیں اور نہ ہی ان کی مذمت کرتے ہيں اور نہ ہی ان کے خلاف اتحاد کی کوئی صورت نکالتے ہیں بلکہ کئی بڑے بڑے علماء جو صاحب فتوی ہیں دبک کر بیٹھ گئے ہیں اور پہاڑوں اور غاروں میں بیٹھے دہشت گرد ان کے بجائے فتوے دے رہے ہیں۔٭ موجودہ صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے، انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کی دہشتگردی اور قتل و غارت سے اسلام کو کوئی فائدہ نہيں پہنچتا بلکہ اسلام اور قرآن کے لئے بہت زیادہ نقصان دہ ہے؛ وہ حتی اپنے نظریات کی ترویج میں بھی ناکام رہے ہیں اور کسی کو اپنے ساتھ نہیں ملا سکے ہیں سوائے جرائم پیشہ گروہوں، مفرور قاتلوں اور مجرموں، سزا یافتہ درندوں، بےروزگار اور ان پڑھ نوجوانوں اور مخصوص مدارس میں دہشت و شدت و قتل کا سبق سیکھنے والے نام نہاد طالبان کے۔ وہ دوسروں کے عقائد کو بھی اپنے حق میں نہیں بدل سکے ہیں؛ جس کہ مطلب یہ ہے کہ یہ شدت پسندی اور درندگی حتی ان کے اپنے خاص نظریئے والے اسلام کے لئے بھی مفید واقع نہیں ہوسکی ہے۔ اور ہمارا سوال یہ ہے کہ اگر یہ روش اسلام، قرآن اور امت کے لئے مفید نہيں ہے تو کس کے لئے مفید ہوسکتی ہے؟ سوائے اس کے، کہ اس تکفیری روش نے دہشت گردی کا شکار ممالک کے امن و امن اور معیشت اور سماجی حیات  کو نیست و نابود کرکے رکھ دیا ہے اور دوسری جانب سے یہ اقدامات اسلام ہراسی (Islam Phobia) کے سلسلے میں مغربی تشہیری مہم کو ایندھن فراہم کررہے ہیں اور کفر و عالمی استکبار کے لئے تشہیری اوزار کا کام دے رہے ہیں۔٭ آج دنیا میں اسلامی بیداری کا آغاز ہوچکا ہے اور مسلم اقوام نے دشمنوں اور ان کے کٹھ پتلی حکمرانوں کے طویل تسلط سے آزاد ہونے کا فیصلہ کرلیا ہے، عالمی کفر اور صہیونیت نے اسرائیل کے قریبی دوستوں اردوغان ـ جو سلطنت عثمانیہ کے احیاء کے سپنے دیکھ رہے ہيں اور کبھی تو عثمانی سلاطین کا لباس پہن کر منظر عام پر آتے ہیں ـ، بلادالحرمین پر قابض سعودی خاندان ـ جو خادم الحرمین الشریفین کہلواتا اور عالم اسلام کی پیشوائی کے خواب دیکھتا ہے ـ اور قطر پر مسلط آل ثانی خاندان ـ جو بلادالحرمین اور سمیت خلیج فارس کی ریاستوں کو زیر نگین لانے کے سلسلے میں اسرائیل اور امریکہ کے مفادات کے لئے اربوں ڈالر خرچ کررہا ہے ـ، اور ان تین میں سے کم از کم دو اسلامی بیداری کے ضمن میں شروع ہونے والی عوامی تحریکوں کا نشانہ ہیں ـ، کے تعاون سے اسلامی بیداری سے جان چھڑانے کا انتظام کررکھا ہے اور اس تحریک کا راستہ روکنے کے لئے شام اور ساتھ ہی عراق میں انحرافی بغاوتوں اور دہشت گردی کا سہارا لے رکھے ہیں اور حتی مصر کے اخوانی صدر بھی ان کے کے فریب میں آچکے ہیں اور اسلامی مزاحمت اور بیداری کے خلاف اس صہیونی امریکی سازش کا حصہ بن چکے ہیں تا کہ سب مل کر استعماری طاقتوں کے تسلط اور صہیونی ریاست کے بچاؤ کے لئے اسلامی بیداری اور اسلامی مزاحمت تحریک کے سامنے صف آراء ہوں۔ اخوان المسلمین اپنی تشکیل کے زمانے سے اب تک استکبار، اور علمانیت (Secularism) استعمار کے خلاف جدوجہد پر تاکید کرتی رہی تھی لیکن جب سے مصر کے عوامی انقلاب کی لہر پر سوار ہوکر برسراقتدار آئی ہے اس کی ادبیات تبدیل ہوچکی ہے، سیکولر ترکی کے ساتھ نہایت قریبی تعلقات برقرار کرچکی ہے حتی کہ مصر کے اخوانی صدر ترکی کے سیکولر وزیر اعظم سے مرید کی مانند پیش آتے ہیں؛ امریکہ، اسرائیل اور ترک وزیر اعظم کے دھوکے میں آچکے ہیں اور ان آمرین اور بادشاہوں کی صف میں جاکھڑے ہوئے ہیں جو آخری لمحے تک انقلاب مصر کے خلاف سازشیں کرتے رہے تھے اور فرعون مصر حسنی مبارک کو بچانے کے لئے سرگرم عمل رہے تھے اور آج بھی جیل میں اس کا ساتھ اپنا تعلق استوار رکھے ہوئے ہیں۔ اخوان المسلمین کی حکومت عرب ڈکٹیٹروں کے ساتھ مل کر اسی اسلامی بیداری کے سامنے جاکھڑی ہوئی جس کی برکت سے اس کو اقتدار ملا ہے وہی اقتدار جس کے حصول کے بارے میں اخوان سوچ بھی نہيں سکتی تھی اور عوامی انقلاب کی کامیابی پریقین رکھنے کے سلسلے میں بھی اخوان کا حال یہ تھا کہ انقلاب شروع ہوتے ہی، حسنی مبارک کے ساتھ مذاکرات کے لئے سرگرم عمل ہوئی تا کہ انقلاب ناکامی کی صورت میں حسنی مبارک کے سائے میں اس کو بھی کوئی کردار ملے اور انقلاب کی کامیابی کے بعد عوام نے اسلام کو رائے دینا چاہی تو اخوان کے سوا کئی اسلامی جماعت نہ ملی لیکن اخوان کے اقتدار میں آتے ہی اس نے سب سے پہلے اسلام اور امت کے ساتھ عظیم ترین خیانت کا ارتکاب کرنے والے انورسادات کو تمغہ بعد از موت سے نوازا اور اس کو 1960 کے عشرے کی ناکام عرب اسرائیل جنگ کا ہیرو قرار دیا!۔