ابنا: ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی نے اپنے بیان میں برطرف حکومت کی بحالی کے لئے سرگرم جماعتوں کو صوبے میں فرقہ وارانہ دہشت گردی‘ اغواء برائے تاون‘ قومی شاہراہوں پر لوٹ مار اور ڈکیتیوں کے خلاف آواز بلند کرنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ رئیسانی حکومت نے صوبے کی امن و امان کو خراب کرنے‘ فرقہ واریت پھیلانے‘ اغواء برائے تاوان اور دیگر جرائم پیشہ عناصر کی کھلم کھلا سر پرستی کرنے، اور لاقانونیت‘ بدامنی‘ بم دھماکوں اور خودکش حملوں اور ہزارہ قوم کا قتل عام کرنے والے گروہوں کو تمام سہولیات فراہم کرکے جس طرح کے حالات پیدا کئے تھے اس کی وجہ سے پورے صوبے کے عوام میں بے چینی اور عدم تحفظ کے احساس نے معمولات زندگی کو بری طرح متاثر کر رکھا تھا۔
بیان میں کہا گیا کہ رئیسانی حکومت نے جہاں اغوا برائے تاوان اور قومی شاہراہوں پر لوٹ مار کرنے کیلئے کئی قسم کے گروہ پال رکھے تھے وہیں قانون نافذ کرنے والے اداروں میں اعلیٰ عہدوں پر ایسے منظور نظر افراد کی تعیناتیاں بھی کی گئی تھی جو ہر طرح سے جرائم پیشہ عناصر کی سرپرستی اور انہیں تحفظ فراہم کرنے پر مامور تھے جس کی ایک مثال عوام کے سامنے آچکی ہے اور کئی افراد فوری طور پر رہا ہو کر اپنے گھروں تک پہنچ چکے ہیں۔
بیان میں سرکاری محکموں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ان کی اصل ذمہ داریوں سے ہٹانے اور انہیں مختلف قسم کے خطرناک مجرمانہ عمل میں ملوث کرنے کے واقعات کی انکوائری کو ضروری قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ جس طرح تمام اداروں میں رئیسانی حکومت کے منظور نظر افراد نے تباہی مچارکھی تھی اسی طرح فرقہ وارانہ دہشت گردوں کی سر پرستی اور انہیں تحفظ فراہم کرنے کیلئے قانون نافذ کرنے والے اداروں میں بھی اعلیٰ عہدوں پر ایسے افراد کی موجودگی کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ یہ بات تمام صوبے کے عوام کے سامنے واضح ہے کہ فرقہ وارانہ دہشت گردی میں ملوث عناصر کے خلاف رئیسانی حکومت کے دور میں کبھی بھی کسی قسم کی کاروائی عمل میں نہیں آئی۔
بیان میں کہا گیا کہ سابقہ حکومت نے نہ صرف اپنے با اثر وزراء کے ذریعے صوبے کے امن و امان کو تباہ و برباد کیا بلکہ تمام حکومتی اداروں کو بد ترین مجرمانہ سر گرمیوں میں شامل کرا کر ایسے حالات پیدا کئے جس کی وجہ سے صوبائی حکومت کو صوبے کی تاریخ کا سب سے ناکام ترین حکومت کا اعزاز حاصل ہوا۔
بیان میں تمام محکموں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد کی مکمل تفتیش کو ضروری قرار دیتے ہوئے فرقہ وارانہ دہشت گردوں کی سر پرستی کرنے والے اہلکاروں کے خلاف دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
بیان میں فرقہ وارانہ دہشت گردوں کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن کرنے اور ملوث گروہوں اور ان کے مراکز کے خاتمے کو امن و امان کے قیام کیلئے ضروری قرار دیا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110
ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی:
سابقہ حکومت کی بحالی کیلئے سرگرم جماعتیں فرقہ ورانہ دہشتگردی کےخلاف آواز اٹھائیں
23 جنوری 2013 - 20:30
News ID: 384325
پارٹی کے مرکزی بیان میں سابقہ صوبائی حکومت کی بحالی کیلئے سرگرم عمل سیاسی و مذہبی جماعتوں کو فرقہ وارانہ دہشت گردی اور ديگر جرائم کے خلاف آوازی اٹھانے کی دعوت کی گئی ہے۔