21 جنوری 2013 - 20:30

پیپلزپارٹی بلوچستان کے صدر اور رکن صوبائی اسمبلی میر صادق عمرانی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں گورنر راج کیخلاف اگر کوئی پیپلزپارٹی کا نام استعمال کرکے مظاہروں میں حصہ لے رہا ہے تو اس کا پیپلزپارٹی سے کوئی تعلق نہیں۔

ابنا: صادق عمرانی کا کہنا تھا کہ صوبے میں گورنر راج وفاقی حکومت اور پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کی منظوری کے بعد لگایا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بات اتوار کی شب نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔
میر صادق عمرانی نے کہا کہ سابقہ صوبائی حکومت نے پندرہ ارب روپے بجٹ میں صرف اس لئے مختص کئے تھے کے شیئرز خرید کر صوبے کے ترقیاتی کاموں پر خرچ کرینگے مگر وہ پندرہ ارب خردبرد کئے گئے ساڑھے چار سال میں وفاقی حکومت نے ایک سو ساٹھ ارب صوبائی حکومت کو دیئے مگر اس کا بھی کوئی حساب نہیں 2002میں آن گوئنگ سکیموں کیلئے دو سو ملین دیئے گئے اس کا بھی کچھ پتہ نہیں کہ کہاں خرچ ہوئے غریب صوبہ جہاں لوگوں کو صحت‘ پانی اور دیگر بنیادی سہولتیں میسر نہیں صوبائی حکومت نے ستر کروڑ روپے کا جہاز خریدا جس کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔
انہوں نے کہا اگر کسی سیاسی جماعت نے گورنر ہاؤس کے سامنے گورنر راج کیخلاف مظاہرہ کی کوشش کی تو اس کے جواب میں پیپلزپارٹی اور دیگر جماعتیں مل کر مظاہرہ کریں گی آئین میں اس بات کی گنجائش ہے کہ اگر صوبے میں حالات خراب ہوجائیں تو گورنر راج نافذ کیا جا سکتا ہے اور صوبے میں جس بنیاد پر گورنر راج نافذ کیا گیا ہے وہ صحیح تھا۔
انہوں نے کہا سپریم کورٹ نے چار بار اپنے آرڈر میں صوبائی حکومت کیلئے سخت الفاظ استعمال کئے وہ الفاظ دہراتے ہوئے اچھا نہیں لگتا مگر ان میں ڈھیٹ کا لفظ بھی استعمال کیا گیا جب سپریم کورٹ کہہ دے کہ صوبائی حکومت ڈھیٹ ہو گئی ہے اس سے سخت لفظ نہ سپریم کورٹ کہہ سکتی ہے نہ میں کہہ سکتا ہوں۔
انہوں نے کہا سابقہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کا یہ کہنا کہ مجھے صرف اس لئے وزارت اعلیٰ سے ہٹایا گیا ہے کہ میں ریکوڈک کسی اور کو دینے کی مخالفت کررہا تھا یہ غلط ہے انہوں نے ریکوڈک کے قریب اپنے خاندان کے نام پر چھ ہزار ایکڑ زمین الاٹ کروائی اس کے علاوہ پندرہ ہزار زمین پسنی میں الاٹ کروائی ہے وہاں کے غریب لوگوں سے زمین زبردستی ہتھیائی گئی ہے۔
انہوں نے کہا سابقہ وزراء نے جس بڑے پیمانے پر کرپشن کی ہے اس کی مثال نہیں ملتی نیب نے جن مزید چھ وزراء کیخلاف انکوائری کا حکم دیا ہے ان میں اگر پیپلزپارٹی کا بھی کوئی وزیر شامل ہوگا تو اس کی حمایت نہیں کرینگے قانون کے مطابق جو سزا بنتی ہے اسے دی جائے بی ڈی اے میں چالیس فیصد کمیشن دیکر اسکیمیں خریدی جاتی تھیں۔ بلوچستان میں کرپشن کی تمام ذمہ داری سابق وزیراعلیٰ اسلم رئیسانی پر عائد ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا صاف شفاف انتخابات میں محترمہ بینظیر بھٹو کے وژن اور وفاقی حکومت نے بلوچستان میں جو ترقیاتی فنڈ دیئے مالی ایوارڈ دیا صوبائی خود مختاری دی اسے لیکر عوام کے سامنے جائیں گے انہوں نے کہا میرے پاس اس بات کا مکمل ثبوت ہے کہ بہت سے ڈی سی او‘ ڈپٹی کمشنر‘ ڈی ایس پی ایس ایچ او وزراء کے ماہانہ اخراجات برداشت کرتے تھے ان کے ہی ذریعے انکا کچن چلتا تھا جلد ہی اس بارے میں بھی انکشاف کروں گا کہ کس وزیر کو کتنا خرچہ کونسا ڈپٹی کمشنر ڈی ایس پی ‘ایس ایچ او دیتا تھا۔
انہوں نے کہا سابق وزیراعلیٰ کس بات کا دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے صوبے میں امن قائم رکھا جبکہ وہ بحیثیت وزیراعلیٰ اپنے حلقہ انتخاب میں نہیں جا سکتے تھے مکران اور قلات میں پاکستانی جھنڈا نہیں لہرایا جا سکتا جب وزیراعلیٰ کے ہوتے ہوئے صوبے میں پاکستانی جھنڈا نہیں لہرایا جا سکتا تو وزیراعلیٰ امن وامان کیا بحال کر سکتے تھے۔
انہوں نے کہا میں اس بات کی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ گورنر راج صوبے میں لگنے کیخلاف اگر کوئی شخص اپنے آپ کو پیپلزپارٹی کا نمائندہ ظاہر کرکے حصہ لے رہا ہے تو اس کا پارٹی سے کوئی تعلق نہیں وہ پارٹی کا نام غلط استعمال کر رہا ہے اس کیخلاف جلد کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں دہشتگردی کے واقعات میں ایک سو بارہ افراد شہید ہوتے ہیں سابق وزیراعلیٰ بلوچستان اسے سنجیدہ لینے کے بجائے مذاق میں کہتے ہیں کہ میں ایک ٹرک ٹیشو پیپر بھیج دوں گا وہ اپنے آنسو پونچ لیں اس سے کمزور وزیراعلیٰ کیا ہو سکتا ہے کہ جسے اس بات کا احساس نہیں کہ ایک سوبارہ افراد شہید نہیں ہوئے بلکہ ایک سوبارہ خاندان تباہ ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ وہ واقعہ کے فورا بعد جو افراد شہید ہوئے تھے ان کے گھروں میں جا کر اظہار تعزیت کرتے مگر انہوں نے اپنا غیر ملکی دورہ جو سرکاری خرچے پر کیا جا رہا تھا کو ختم نہیں کیا بلکہ وہیں سے بیٹھ کر شہید ہونے والوں کیلئے دعائے مغفرت کی بجائے طنز کرتے رہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
/110