اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق قصر شاہی کے سامنے دربار کے شیوخ اور مفتیوں کا احتجاج سعودی خاندان کی بادشاہت کی پوری تاریخ کا منفرد واقعہ تھا جو بالآخر رونما ہوا اور یہ واقعہ بھی اپنی نوعیت میں منفرد تھا کہ سعودی سرکاری فورسز نے مفتیوں اور شیوخ کا لحاظ رکھا اور انہیں زد و کوب نہيں کیا۔ ایک سعودی سیاستدان اور تجزیہ نگار حمزہ الحسن نے العالم کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ سعودی مفتی اور شیوخ عام طور پر خفیہ ملاقاتوں میں آل سعود کو سفارشات اور تجاویز دیتے اور نصیحت کرتے ہیں اور حکومت پر تنقید کرنے والوں کا نہ صرف استقبال کرتے ہیں بلکہ ان کے خلاف شدید قسم کے فتوے بھی جاری کرتے ہیں لیکن اب انھوں نے خود ہی اپنی روایت کو توڑ ڈالا ہے اور آل سعود حکومت کے خلاف سیاسی ـ دینی احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا: علماء اور مفتی حضرات ریاض میں قصر شاہی پہنچے اور ملاقات کی درخواست کی تو انہيں ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی اور انھوں نے محل کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا؛ اور بادشاہ نے گویا مفتیوں اور شیوخ کو گرفتار نہ کرکے، سزا نہ دے کر اور زد و کوب نہ کرکے ان کا احترام کیا کیونکہ جب بھی معترضین کسی وزارت خانے یا کسی ملکی ادارے کے دفتر کے سامنے مظاہرہ کرتا ہے انہیں زد و کوب کیا جاتا ہے، شدید سزا دی جاتی ہے اور گرفتار کیا جاتا ہے۔ انھوں نے واضح کیا کہ بلادالحرمین میں دینی ادارہ کو شدید قسم کے الجھنوں کا سامنا ہے وہ عوام کو کسی صورت میں بھی شاہی حکومت کے قانونی جواز کے حوالے سے قائل کرنے سے عاجز آچکے ہیں چنانچہ اس وقع علماء آل سعود کی حکمرانی کے حوالے سے کئی گروپوں میں بٹ گئے ہیں اور عین ممکن ہے کہ تمام علماء حکومت سے علیحدگی کا اعلان کردیں۔الحسن نے مزید کہا: سعودی حکومت کو چیلنجوں اور الجھنوں سے بھرپور سال (2013) کا سامنا ہے کیونکہ سنہ 2012 میں عوامی تحریک کو وسعت اور تقویت ملی اور یہ تحریک منطقۃالشرقیہ کی حدود سے نکل کر پوری مملکت میں پھیل گئی اور آل سعود کے حکمران عوامی مطالبات پر عملدرآمد کرنے میں ناکام رہے۔ چنانچہ نئے سال میں احتجاج کا سلسلہ مزید وسیع ہوگا، بدامنی ہوگی، عوام کو تشدد کا نشانہ بنا کر کچلا جائے گا اور آل سعود کے حکمران پھر بھی عوامی مطالبات تسلیم کرنے میں ناکام رہیں گے اور یہ سال آل سعود کے لئے بہت ہی برا سال ثابت ہوگا۔ انھوں نے بادشاہ کی طرف سے مجلس شوری میں تیس خواتین اراکین کی تقرری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: مجلس شوری منتخب پارلیمان نہیں ہے، اس کے اراکین عوام کی طرف سے نہیں بلکہ بادشاہ کے ہاتھوں مقرر کئے جاتے ہیں، مجلس شوری نہ تو قانون سازی کرسکتی ہے اور نہ ہی ملکی انتظام و انصرام پر نگرانی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110
تفصیل کے لئے رجوع فرمائیں: