اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اللہ تعالی کی ذات پر توکل اور اس کی مدد اور نصرت پر یقین اور حسن ظن رکھنے کے سلسلے میں تاکید کرتے ہوئے فرمایا: سامراجی محاذ نے ایرانی قوم کا سرتسلیم خم کرنے کے لئے اپنی تمام طاقت وتوانائی کواستعمال کیا ہوا ہے لیکن ایرنی قوم سختیوں کو برداشت کررہی ہے کیوں کہ اس نے دشمن کے شوم منصوبے ، نقشہ اور ہدف کو پہچان لیا ہے اور وہ اپنے فہم اورصحیح تشخیص کی بنیاد پر عمل کررہی ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: جیسا کہ 1357 ہجری شمسی میں غیر یقینی شرائط میں انقلاب اسلامی کی کامیابی اللہ تعالی کے وعدے کے پورا ہونے کا عینی مصداق تھا، اور دشمن کے سنگین دباؤ ، سامراجی طاقتوں کی طرف سے اقتصادی پابندیوں کے باجود انقلاب اسلامی کی آگے کی سمت پیشروی، علم و سائنس کے شعبہ میں شاندار ترقی و پیشرفت، اللہ تعالی کے وعدے کے پوراہونے کا عملی مصداق ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ایرانی قوم کے فہم و ادراک ، دشمن شناسی اور وقت شناسی کو اعجاب آور مسائل میں شمار کرتے ہوئے فرمایا: سن 1388 ہجری شمسی میں دشمن یہ تصور کرتا تھا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف اس کی دس سالہ کوششیں نتیجہ تک پہنچ گئی ہیں، لیکن ایرانی قوم نے میدان میں حاضرہو کربین الاقوامی مخالفین اور معترضین کے منہ پر زوردار طمانچہ رسید کیا اور ملک کےاندرسامراجی طاقتوں کے نوکروں کی ایرانی قوم کی عظمت کے سامنے توکوئی حیثیت ہی نہیں ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: ایرانی قوم 22 بہمن کے دن ایک بار پھر دنیا کے سامنے اپنےفہم و شوق و نشاط اور شادابی کےعظیم جلوے پیش کرےگی۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب کے دوسرے حصہ میں مسلح افواج کی انٹیلیجنس کی شان و منزلت اور ان کی ذمہ داری کو باعث فخر اور سنگین قرار دیتے ہوئے فرمایا: اسلامی کی نگاہ میں مسلح افواج گاڑی کی طرح ایک بے ارادہ مجموعہ نہیں بلکہ فوج انسانوں کا ایک ایسا ادارہ ہے جو عقل و دانش ، عزم و ارادہ اور ایمان و محبت کے مجموعہ پر مشتمل ہے۔
.....
/169