ابنا: عالم اسلام کا ایک اہم ملک پاکستان ایک بار پھر سیاسی اور سلامتی کے بحران سے دوچار ہے ۔ پورا ملک مظاہروں ، دھرنوں ، احتجاجی اجتماعات اور عجیب و غریب قسم کی افواہوں کی زد پہ ہے ۔ ملک کا وزير اعظم ملک کی اعلی عدلیہ کے ذریعے کسی بھی وقت گرفتار کیا جا سکتا ہے صدر مملکت کسی مرشد کے کہنے پر دارالحکومت سے ہزاروں کلومیٹر دور کراچی میں بلاول ہاؤس میں قیام پذیر ہیں ۔ دارالحکومت میں قومی اسمبلی احتجاجی دھرنا دینے والوں کے نرغے میں ہے ۔ صوبہ بلوچستان میں گورنر راج نافذ ہوچکا ہے جبکہ صوبہ خیبر پختوں خوا میں گورنر ہاؤس کے سامنے مظاہرہ اور دھرنا جاری ہے ۔ سپریم کورٹ کی طرف سے پیپلز پارٹی کے وزير اعظم راجہ پرویز اشرف کی گرفتاری کے خلاف صوبہ سندھ میں جو فوری عوامی رد عمل سامنے آیا ہے اسکو بھی خطرے کی گھنٹی سمجھا جارہا ہے ۔ اس صورت حال میں صرف پنجاب حکومت ہے جو کسی حد تک مضبوط نظر آرہی ہے تا ہم تحریک منہاج القران کے اسلام آباد کے اجتماع میں جس طرح روز بروز اضافہ ہورہا ہے اس سے جہاں مرکزي حکومت کو خطرہ ہے وہاں مسلم لیگ نون اور انکی حکومت کے خلاف بھی فضا بن رہی ہے کیونکہ علامہ طاہر القادری اور میاں نواز شریف کے درمیان اختلافات کسی سے پوشیدہ نہیں دوسری طرف پنجاب حکومت پر الزامات عائد کئے جارہے ہیں کہ وہ سپاہ صحابہ ، لشکر جھنگوی جیسے دہشت گرد عناصر کی حمایت کررہی ہے ۔جیسا کہ پاکستان کے ایک سنیئر سیاستدان اور ایوان بالا کے رکن حاجی محمد عدیل نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کا وقت مناسب نہیں تھا اور انہوں نے علامہ طاہر القادری کے لانگ مارچ پر بھی تنقید کی ہے تو دوسری طرف اس فیصلے اور لانگ مارچ کے حامیوں کا یہ کہنا ہے کہ ملک کی تقدیر کے فیصلے چند ہاتھوں تک محدود ہیں اور آئین کی مرضی کی تشریحات کرکے قوم کو بے وقوف بنایا جاتا ہے لہذا بنیادی تبدیلی اور انقلاب کی ضرورت ہے طرفین میں سے کس کا موقف درست ہے یہ الگ مسئلہ ہے لیکن پاکستان کے اندر اور باہر موجود محب وطن اور اسلام پسند حلقوں کا یہ کہنا ہے کہ عالم اسلام کے ایک اہم ملک پاکستان کو عدم استحکام سے بچانا انتہائی ضروری ہے ۔ پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے نیز اس ملک کے مسلمان شہریوں کے درمیان اختلافات اور تفرقہ پیدا کرنے کی سازشیں عرصے سے جاری ہیں اور یہ بات بھی روز روشن کی طرح واضح ہے کہ اس سازش میں غیر ملکی سامراجی طاقتیں ملوث ہیں جو مقامی ایجنٹوں کو استعمال کرکے نہ صرف ایک مسلمان ملک بلکہ دین اسلام کو بدنام کرنا چاہتی ہیں پاکستان کے سنجیدہ صحافتی حلقوں کا کہنا ہے کہ آج پاکستان میں مذہب کے نام پر دہشت گردی کرنے والے ،جمہوریت کے روپ میں عوام کا خون چوسنے والے نیز مختلف حیلے بہانوں سے ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنے والے ایک ہی ایجنڈے پر کام کررہے ہیں۔ایسے میں پاکستان کے تمام مسالک ، مذہبی جماعتوں ، سیاسی گروہوں اور سول سوسائیٹی کے اسلام اور وطن دوست حلقوں اور شخصیات کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اتحاد و وحدت کی فضا میں وطن عزیز کے استحکام کے لئے مشترکہ موقف اپنائیں۔ پاکستان میں عدم استحکام اسرائیل سمیت تمام سامراجی طاقتوں کی پرانی خواہش ہے اسی لئے پاکستان میں حال ہی میں ایک اسرائیلی جاسوس کی گرفتاری کو آسانی سے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔
.......
/169