ابنا: بتایا جاتا ہےکہ ترکی نے دوبارہ صہیونی ریاست سے ہتھیار خریدنا شروع کردیا ہے۔ اس سے قبل ترکی کو امریکہ سے ایواکس طیاروں کی خریداری میں صہیونی ریاست نے پیچھے چھوڑدیا تھا۔ اسکے بعد صیہونی کمانڈوز نے غزہ جانے والے ترکی کے امدادی جہاز مرمرہ پر حملہ کرکے نو ترک امدادی کارکنوں کو ہلاک کردیا تھا جس کے بعد سے ترکی اور صہیونی ریاست کے تعلقات بری طرح خراب ہوگئے تھے۔ اس واقعے کے بعد حکومت انقرہ نے صہیونی ریاست کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لئے شرط لگائي تھی کہ اسرائيل ترکی سے معافی مانگے اور اسرائيلی کمانڈوز کے ہاتھوں جان بحق ہونے والوں کے خاندانوں کو تاوان ادا کیا جائے۔ گرچہ صہیونی ریاست نے ترکی حکومت کی یہ درخواست قبول کرنے سے انکار کردیا ہے لیکن کہا جاتا ہے کہ انقرہ اور تل ابیب کے درمیاں تعلقات معمول کی سمت بڑھ رہے ہیں۔ترکی کے اخبار ینی آسیا نے لکھا ہے کہ ترکی اور صہیونی ریاست کے تعلقات خفیہ طریقےسے روز بروز دوستانہ ہوتے جارہے ہیں جس کے نتیجے میں اس موضوع پر سیاسی حلقوں میں بھی بحث و گفتگو میں اضافہ ہورہا ہے۔ بعض سیاسی مبصرین کا کہنا ہےکہ اس سے قبل کچھ ایسی باتیں تھیں جن کے سبب صیہونی حکومت کے ساتھ کشیدہ تعلقات سے ترک حکومت کو فائدہ ہورہاتھا۔ مثال کے طور پر ترکی نے غزہ میں صیہونی حکومت کی مجرمانہ کاروائيوں کی مذمت کرکے علاقے میں اپنےلئے الگ مقام بنالیا تھا لیکن ترکی میں نیٹو کی میزائل شیلڈ نیز پیٹریاٹ میزائلوں کی تنصیب سے ترکی کی یہ پوزیشن ختم ہوگئي ہے۔ ترکی میں حزب اختلاف منجملہ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے اپنے ملک کی سرزمین پر نیٹو کی میزائل شیلڈ اور پیٹریاٹ میزائلوں کی تنصیب کو صہیونی ریاست کے تحفظ کے اقدامات سے تعبیر کیا ہے۔ ادھر صیہونی حکومت کے تعلق سے ترک حکومت کی دوہری پالیسیوں سے مختلف سیاسی پارٹیاں غصے میں ہیں اور شام میں بھی اردوغان حکومت کی مداخلت کی مذمت کررہی ہیں۔ شام میں اردوغان حکومت کی مداخلت کے مخالف بہت سے حلقوں کا کہنا ہےکہ یہ اقدام صیہونی حکومت کے خلاف جاری مزاحمت کو کمزور بنانےکے لئے کئےجارہے ہيں اور صیہونی حکومت کے حق میں ہیں۔ ان مخالفین میں عالمی انسانی حقوق کمیشن کے سربراہ محمد شاہد امین خان بھی شامل ہیں جنہوں نے حال ہی میں شام کے ایک ٹی وی چینل سے گفتگو میں کہا ہےکہ ترکی اور قطر شام میں دہشتگردی میں سرگرم نام نہاد آزاد فوج کی حمایت کررہے ہیں۔ ایسے عالم میں ترکی کی جانب سے عالم اسلام کی طرف توجہ، غزہ کی حمایت اور صیہونی حکومت کی دشمنانہ پالیسیوں کی مذمت جیسے ڈھونگ سے عالم اسلام متاثر ہونےوالا نہیں ہے۔ واضح رہے شام اور عراق میں ترکی کے منفی کردار کے آشکار ہونے نیز انقرہ کی جانب سے مغرب کی پیروی سے ترکی کا اصلی رخ نمایاں ہوتا جارہا ہے۔ البتہ بعض سیاسی مبصرین کا خیال ہےکہ صہیونی ریاست کے ساتھ ترکی کے تعلقات میں بہتری آنے میں امریکہ کا دباؤ بھی کافی موثر رہا ہے۔ ادھر بعض سیاسی مبصرین یہ بھی کھ رہے ہیں کہ ترکی علاقے کے مسائل میں الگ تھلگ ہونے کے خوف سے نیٹو اور صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات بڑھارہا ہے یہاں تک کہ اخبار ینی مساژ ان کوششوں کی طرف اشارہ کرتےہوئے لکھتا ہےکہ کیا ترکی اسرائيل میں شامل ہوجائے گا؟
.......
/169