ابنا: مجلس وحدت مسلمین کوئٹہ کے زیر اہتمام سانحہ مستونگ کیخلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ جس میں اہل تشیع کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مظاہرے میں شریک افراد نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔ جن پر دہشت گردوں اور حکومت کے خلاف نعرے درج تھے۔ اس موقع پر مظاہرین نے دہشت گردوں، انتظامیہ اور حکومت کے خلاف شدید نعرہ بازی کی۔ احتجاجی مظاہر ے سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی مرکزی شوریٰ عالی کے رکن علامہ سید ہاشم موسوی اور علامہ ولایت حسین جعفری نے کہا کہ دنیا بھر کے شیعہ امام حسین (ع) کے پیغام کو عام کرنے کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرینگے۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ دربار شام میں بی بی زینب (س) نے یہ کہہ کر کہ ’’خدا کی قسم اے یزید تو اپنی طاقت کو استعمال کرکے بھی ہماری یاد کو کھبی بھی نہ مٹا سکو گا‘‘ یزید ملعون کو وہ داندن شکن جواب دیا جو بشریت کی تاریخ میں سنہرے حروف کے ساتھ محفوظ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ شیطانی اور طاغوتی طاقتیں ہر دور میں اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود امام حسین (ع) کے نام اور پیغام کو نہیں مٹا سکیں۔ اللہ تعالیٰ کی رضا اسی میں ہے کہ امام حسین (ع) کا نام اور پیغام باقی رہے اور انسانیت اسی نام کی بدولت محفوظ ہے۔ انہوں کہا کہ دنیا کی کوئی طاقت ہم سے عشق حسین (ع) نہیں چھین سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ہم حسین (ع) کے نام پر اپنا سب کچھ قربان کرنے سے بھی دریغ نہیں کرینگے۔ جس کی مثال سانحہ مستونگ سمیت دیگر واقعات میں ملتی ہے کہ ملت تشیع نے ڈٹ کر ان تمام دہشت گردوں کا مقابلہ کرکے ان کے ناپاک مقاصد کو خا ک میں ملا دیا۔ سانحہ مستونگ کے شہداء کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ زائرین نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر جوار امام حسین (ع) میں اپنے لیے جگہ بنائی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم سانحہ مستونگ میں بے گناہ زائرین (ع) پر خودکش حملہ کی شدید مذمت کرتے ہیں اور حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ پاکستان میں خون کی ہولی کھیلنے والے دہشت گردوں کو فوری طور پر گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دے اور ان کی سرپرستی کرنے والے عناصر کی نشاندہی کرکے ان کا قلع قمع کرے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سانحہ مستونگ کے شہداء اور زخمیوں کو مالی معاوضہ فراہم کیا جائے اور زخمیوں کا مفت علاج کیا جائے۔ انہوں شہداء کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے کہا کہ ہم ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ اللہ تعالیٰ شہداء کے درجات عالٰی فرمائے۔
.......
/169