4 جنوری 2013 - 20:30

ملت جعفریہ لاشوں پر لاشیں اٹھانے کے باوجود ملک کی سلامتی و استحکام کے لیے صبر و تحمل سے کام لے رہی ہے، اگر ہمارے نوجوانوں نے ہتھیار اٹھا لیے تو پھر سب کچھ جل کر راکھ ہو جائے گا۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ک جانب سے جمعہ کو ملک سانحہ مستونگ اور کراچی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف یوم احتجاج منایا گیا جبکہ ایم ڈبلیوایم کراچی ڈویژن کے زیر اہتمام کراچی میں جامع مسجد خواجہ اثنا عشری کھارادر ،جامع مسجد نورایمان ناظم آباد ،جامع مسجد دربار حسینی ملیر برف خانہ ،جامع مسجد مصطفی عباس ٹاون،جامع مسجدحیدری اورنگی ٹاون مجلس وحدت مسلمین پاکستان کراچی ڈویژن کے زیر اہتمام مظاہروں سے خطاب کرتے ہوئے کراچی ڈویژن کے سیکرٹری جنرل مولانا صادق رضا تقوی، مولانا احمد اقبال، مولانا آغا شیخ حسن صلاح الدین، مولانا محمد حسین کریمی، مولانا عیسی قرائتی، مولانا اصغر جوادی، مولانا منور نقوی اور مولانا علی افضال نے کراچی میں ہونے والی ٹارگٹ کلنگ کی سنگین وارداتوں اور مستونگ میں زائرین کی بسوں پر ہونے والی دہشتگردی پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملت جعفریہ لاشوں پر لاشیں اٹھانے کے باوجود ملک کی سلامتی و استحکام کے لیے صبر و تحمل سے کام لے رہی ہے، تاہم اگر ہمارے نوجوانوں نے ہتھیار اٹھا لیے تو پھر سب کچھ جل کر راکھ ہو جائے گا۔مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے رہنماوں کا کہنا تھا کہ ملک کے کونے کونے میں بے گناہ مسلمانوں کو خون میں نہلایا جا رہا ہے لیکن حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے خاموش اختیارکر رکھی ہے اور ستم ظریفی یہ ہے کہ ہماری آزاد عدالتوں کو ایک تھپڑ تو نظر آ جاتا ہے لیکن سینکڑوں بے گناہ انسانوں کا خون نظر نہیں آتا، وہ بالخصوص شیعیان حیدر کرار (ع) کے قتل عام پر خاموشی اختیار کر لیتی ہیں؛ افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ ملک کی تمام سیاسی اور مذہبی جماعتیں بھی مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں، اس صورت حال میں ہمیں خدشہ ہے کہ مسلسل نظر انداز ہونے کے باعث احساس محرومی کا شکار ہو کر ہماری ملت کے نوجوان انتقامی راستہ اختیار کر سکتے ہیں؛ خدانخواستہ ایسا ہوا تو ملک بھرمیں سقوط ڈھاکہ جیسی صورت حال پیدا ہو جائے گی اور ملکی سلامتی کی ضمانت نہیں دی جا سکے گی۔ مولانا احمد اقبال نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی سے خیبر تک دہشت گردوں کی عملی حکمرانی ہے زائرین کی بسوں پر حملے کرنے والوں کو تاحال گرفتار نہیں کیا جا سکا ہے۔ سال 2012میں 502 شیعیان حیدر کرار پاکستان بھر میں دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہوئے۔ ملک بھر میں دہشت گردوں کی عملی حکمرانی رہی اورحکومت اور عدلیہ دہشت گردوں کوکیفر کردار تک پہنچانے میں ناکام ہی نظر آرہی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110