ابنا: مشرق وسطي کے قلب ميں غاصب اسرائيلي حکومت کے قيام کو چھے عشرے گزرنے کےباوجود صہیوني حکام کي جانب سے فلسيطنيوں کو جبري طور پر ان کے گھروں سے بے دخل کئے جانے کا سلسلہ جاري ہے۔فلسطيني ذرائع نے بتايا ہے کہ صہیوني سيکورٹي فورس نے غرب کے مغربي کنارے ميں آباد سو فلسطيني خاندانوں کو نوٹس ديا ہے کہ بدھ دو جنوري تک اپنے گھروں کو خالي کرديں- صيہوني فوجيوں کا کہنا ہے کہ مغربي کنارے کے شمال مشرقي علاقے الاغوار ميں واقع ان سو گھروں کو عنقريب مسمار کرديا جائے گا۔فلسطيني قبائلي کے ايک سرکردہ رہنما نے بتايا ہے کہ صہیوني فوجيوں نے باقاعدہ نوٹس ديا ہے اور کہا ہے کہ فوجي مشقوں کے انعقاد کے لئے يہاں رہنے والے فلسطيني اپنے گھروں کو خالي کرديں۔ اس پہلے بھي اسرائيلي فوجيوں نے الاغوار کے علاقے ميں واقع تين فلسطيني ديہات مکمل طور پر مسمار کرديئے تھے جس کے نتيجے ميں سيکڑوں فلسطيني بے گھر ہوگئے تھے۔الميادين ٹي وي کے مطابق اسرائيل نے جنوبي نابلس کے علاقے ميں ليز نہ ہونے کا بہانہ بنا کر فلسطينيوں کے اکيس مکانات منہدم کرديے ہيں- اس واقعے کا انکشاف ايسے وقت ميں ہوا ہے جب بيت المقدس شہر ميں اسرائيلي بلديہ نے بھي مسجد الاقصي کے قريب واقع فلسطنييوں کے سو گروں کو منہدم کرنے کا منصوبہ تيار کرليا ہے- واضح رہے کہ اسرائيلي حکومت فلسطينيون کو تعمير نو کي اجازت بھي نہيں ديتي اور اجازت نامہ نہ ہونے کا بہنانہ بنا کر اپني نسل پرستانہ پاليسيوں کو آگے بڑھا رہي ہے-فلسطنيي علاقوں کو يہودي بنانے کي پاليسي اب اصل باشدوں کي جبري بے دخلي اور فلسطينيوں کے گھروں کے انہدام کے صورت ميں جاري ہے جس پر اسرائيل اپنے قيام سے ليکر آج تک عمل کرتا چلا آرہا ہے- اور انيس سو سڑسٹھ کي جنگ کے بعد سے اس ميں بتدريج شدت آتي جارہي ہے۔قابل غوربات يہ ہے کہ انساني حقوق کا راگ الاپنے والے کسي بھي عالمي ادارے اور تنظيم نے تاحال بے گناہ فلسطينيوں کي بے دخلي اور انکے مکانات کے انہدام کا سلسلہ رکوانے کے لئے کوئي سنجيدہ اور ٹھوس قدم نہيں اٹھايا ہے- لہذا فلسطينيوں کے پاس اسرائيل کا توسيع پسندي کا مقابلہ کرنے کے لئے تحريک مزاحمت کے سوا کوئي اور راستہ باقي نہيں ہے۔......./169
2 جنوری 2013 - 20:30
News ID: 378165
فلسطيني ذرائع نے بتايا ہے کہ صہیوني فوج نے غرب اردن ميں آباد سو فلسطيني خاندانوں کو نوٹس ديا ہے کہ بدھ دو جنوري تک اپنے گھروں کو خالي کرديں۔