اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق جرمنی اخبار "فوکس" نے اپنے پیر کے شمارے میں رپورٹ دی ہے کہ یہودی ریاست کی فوج کے "متکال" نامی یونٹ کے متعدد دستے طویل عرصے میں سرزمین شام میں موجود ہیں اور دہشت گردوں کے تعاون سے شام کے اندر مبینہ کیمیاوی ہتھیاروں والے ٹھکانوں پر قابض ہونے کی کوشش کررہے ہیں۔ فوکس کے مطابق اسپیشل آپریشنز کی متکال یونٹ ـ جو اسرائیلی فوج کی اسٹاف کمیٹی سے وابستہ ہیں ـ نام نہاد "حلب عسکری کونسل" کے سرغنے کرنل عبدالجبار العقیدی کے تعاون سے السفیر کے علاقے میں ہتھیار بنانے والے ورکشاپوں پر مسلط ہونے کے لئے حلب میں داخل ہوئے ہیں۔ یاد رہے کہ حلب کی سرحدیں ترکی سے ملتی ہیں اور یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ یہودی ریاست کے فوجی اردوگان حکومت کے تعاون سے ترکی سے گذر کر شام میں داخل ہوئے ہیں۔ فوکس کی رپورٹ کے مطابق فرانس نے بھی 135 فوجیوں پر مشتمل ایک دستہ اردن میں شامی سرحدوں کے قریب تعینات کئے ہیں جو شام میں کاروائی کرکے ان ہی ٹھکانوں پر تسلط جمانے کے خواہاں ہیں۔فوکس نے کہا کہ اسرائیلی فوجی اس وقت شام میں داخل ہوئے جب شام کے کیمیکل وار فيئر کے مفرور بریگیڈیئر عدنان سلو نے اردوگان حکومت کے تعاون سے ترکی میں ـ صہیونی صدر سے وابستہ ـ یہودی ریاست کے بیالوجیکل وار فئیر تحقیقات مرکز کے سربراہ سے ملاقات کی جس کے بعد فرانسیسی فوجی بھی اردن پہنچ گئے۔ جرمن اخبار ـ جس کا ملک شامی حکومت کے خلاف مغربی اسرائیلی سازش کا حصہ بن گیا ـ نے دعوی کیا کہ مغربی ممالک اور اسرائیل نے یہ اقدامات اس لئے انجام دیئے ہیں کہ کہیں شام کے کیمیکل ہتھیار دہشت گردوں کے ہاتھ نہ لگیں لیکن یہ اخبار یہ بتانے سے عاجز تھا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ دہشت گردوں کے تعاون سے شام میں دراندازی کی جائے اور اس دراندازی سے ان ہی دہشت گردوں کو مبینہ کیمیاوی ہتھیاروں تک پہنچنے سے روکنا مقصد ہو؟فوکس نے مزید لکھا ہے: کئی فرانسیسی اور امریکی فوجی دستے اردن کے اندر "شام کے صدر کے خلاف کاروائی کے لئے تیار ہيں"، اور "ان کا مقصد شام کے کیمیاوی ہتھیاروں کا دفاع" اور "دہشت گردوں کو ان ہتھیاروں تک پہنچنے سے روکنا" (؟!) ہے؟؟؟فوکس لکھتا ہے: یہودی ریاست کے فوجی کئی مہینوں سے شام میں موجود ہیں اور فرانسیسی فوجی بھی کئی بار اردن سے شام میں داخل ہوئے ہیں اور کچھ عرصہ تحقیقات گشت کرنے کے بعد واپس اردن چلے گئے ہیں۔ اور فرانسیسی فوجی اردن میں موجود شامی پناہ گزینوں کے لئے بنائے گئے ایک اسپتال کے عملے کے بھیس میں کام کررہے ہیں۔فوکس نے لکھا ہے کہ امریکی ڈیلٹا فورس اور رینجرز بھی اردن میں تعینات ہیں اور ان کو بھی شام کی حکومت کے خلاف کاروائی کا مشن دیا گیا ہے اور وہ اس مشن کے لئے تیار ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110
شامی اپوزیشن راہنما نے ترکی کی مداخلت کی مذمت کی
شام: دہشت گردوں کے اسرائیل کے ساتھ قریبی روابط/ تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق