اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجی میں ٹائروں کی دکان پر یہود نواز تکفیریوں کی فائرنگ سے سید غلام رسول شاہ شدید زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر سی ایم ایچ اسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکے اور جام شہادت نوش کرگئے۔شہید ہونے والے غلام رسول شاہ بعد ازاں نچاری امام بارگاہ منتقل کیا گیا۔واضع رہے کہ اس سے قبل بھی کوئٹہ شہر میں شیعہ نسل کشی کا باقاعدہ آغاز 2004 سے ہوا ہے اور اب تک سینکڑوں محب وطن شیعہ شہید ہوچکے ہیں گو کہ سینکڑوں دیگر افراد بھی نسلی تعصب کی بنا پر تعصب کی آگ میں جل کر قتل کئے جاچکے ہیں لیکن حکومت کی کارکردگی کی حد یہ ہے کہ وزیر اعلی نے شہداء کے خاندانوں اور مظلوم شیعیان کوئٹہ کے زخموں پر نمک چھڑکتے ہوئے ایک دفعہ ان کے مطالبات کے جواب میں کہا تھا کہ "روئیں بھئی میں تمہارے لئے ٹیشو پیپرز کے ٹرک کے ٹرک روانہ کروں گا"، چنانچہ حال ہی میں صوبائی حکومت اور اس کے وزير اعلی کو سپریم کورٹ نے نااہل قرار دیا اور قرار دیا کہ صوبائی حکومت مزید قانونی حیثیت نہيں رکھتی لیکن بہرحال شیعہ نسل کشی جاری ہے جس کی آخری مثال سیدغلام رسول شاہ کی شہادت ہے اور نہ معلوم کہ ایجنسیوں کی سازشوں، حکومت کی نااہلی اور عوام کی بے حسی کی وجہ سے مزید کتنی لاشیں اٹھانا پڑیں گی اہلیان کوئٹہ اور اہلیان پاکستان کو!۔.........../110
25 دسمبر 2012 - 20:30
News ID: 375765
کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجی میں ایک دوکان پر یہود نواز تکفیری دہشتگردوں کی فائرنگ سے غلام رسول شاہ شہید ہوگئے۔