اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق، آج سے چند ہی سال قبل سوئزر لینڈ میں ایک اجلاس کے دوران ترک وزیراعظم رجب طیب اردوگان کی اسرائیل کے خلاف مؤثر اداکاری کے نتیجے میں ان کی حکومت کو مسلم امہ میں بڑي پذیرائی ملی لیکن کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ یہ ترک سیاستدان یہ سب کچھ اسرائیل کے ساتھ ہمآہنگ ہوکر کررہے ہيں تاہم اسرائیلیوں کو اپنے اس وفادار سپاہی کی وفاداری میں ذرہ برابر بھی شک و شبہہ نہ تھا اور یوں فریڈم فلوٹیلا کا ڈرامہ بھی یہودی ریاست کے ساتھ مکمل ہمآہنگی سے کھیلا گیا تا کہ اسرائیل کے اس سپاہی کو مزيد شہرت اور مقبولیت ملے چنانچہ وہ اس کام میں کامیاب بھی ہوئے لیکن جس بات کی کسی کو توقع نہ تھی وہ یہ تھی کہ اردوگان اپنی ڈرامہ بازی سے کمائی ہوئی حقیقی عزت کو اتنی آسانی سے کھو دینے کے لئے تیار ہوجائیں گے۔اردوگان نے اسرائیل مخالف محاذ یعنی مملکت شام کو اسرائیل اور امریکہ کے فرمان پر اپنے عرب دوستوں کے ساتھ مل کر نشانہ بنایا تو پھر بھی بہت سوں نے پھر بھی یقین نہیں آیا کہ وہ ڈرامہ بازي کررہے تھے، اور جب انھوں نے مصر کی اخوان المسلمین سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ پر اسرائیلی حملے کے دوران خاموش رہيں، پھر بھی شاید بہت سوں کو یقین نہيں آیا اور جب انھوں نے صدر مرسی سے کہا کہ وہ مصر میں ایک سیکولر قانون پر ریفرنڈم کرائیں اور اسلامی آئین کو بھول جائیں تو بہت سوں کو یقین آیا کہ یہ حضرت ڈبل گیم میں مصروف ہیں اور اب جو انھوں نے بعض یورپی ممالک اور امریکہ کی اس تجویز سے اتفاق کیا کہ اسرائیل بھی نیٹو میں شامل ہوجائے تو کوئی ابہام نہ رہا کہ عرب اور اسلامی دنیا کی امامت سنبھالنے کے لے بےچین ترک وزير اعظم پرانے لادین ترک حکمرانوں سے بھی کہیں زیادہ خطرناک شخص ہیں جو اسلام پسندی کے نام پر برسراقتدار آکر اسلام کی جڑیں اکھاڑنا چاہتے ہیں۔ایک اعلی ترک اہلکار نے رائٹرز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ترکی نے 2013 میں نیٹو کے غیرفوجی اور سول پروگراموں میں اسرائیل کی شرکت کی تجویز سے اتفاق کیا ہے اور اس نے ابتدائی مخالفت ترک کردی ہے۔ واضح رہے کہ فریڈم فلوٹیلا پر صہیونیوں کے حملے کے بعد ترکی اور صہیونی ریاست کے تعلقات بظاہر تناؤ سے دوچار ہوئے تھے لیکن خفیہ طور پر یہ تعلقات نہ صرف جاری تھے بلکہ یہودی ریاست اور اردوگان کی حکومت اس مدت میں پہلے سے کہیں زیادہ ایک دوسرے کے قریب آگئے ہیں اور حالیہ آٹھ روزہ جنگ میں علاقائی سطح پر صہیونی ریاست کی سفارتکاری کی ذمہ داری ترک حکومت نے بطور احسن انجام دی اور حماس اور اخوان المسلمین کو اسرائیل کے خلاف کسی قسم کا رد عمل ظاہر نہ کرنے اور جہاد اسلامی کو اسرائیل کے خلاف فجر 5 میزائل استعمال نہ کرنے پر آمادہ کرنے کی ذمہ داری بھی اردوگان نے سنبھالی تھی اور اس سلسلے میں حماس اور اخوان المسلمین کے ساتھ امریکی خفیہ معاہدے میں ضامن کی ذمہ داری بھی اسرائیل نیٹو کا رکن ملک نہیں ہے لیکن بحیرہ روم میں نان نیٹو شریک کار کے طور پر نیٹو کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ اسرائیل اور ترکی دونوں شام کے پڑوسی ہیں اور شام کے سلسلے میں بھی یہ دونوں انٹیلجنس کے سلسلے میں تعاون کررہے ہیں اور بعض اسرائیلی ذرائع نے کہا ہے کہ ترکی میں پیٹریاٹ میزائلوں کی تنصیب کے سلسلے میں اردوگان کی درخواست کی قبولیت کے نتیجے میں ترکی نے نیٹو کے مشنز میں اسرائیل کی شرکت کی تجویز سے اتفاق کیا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔/110
یہ بھی دیکھ لیں:
وزیر اعظم رجب طیب اردوگان اور صدر عبداللہ گل کا یہ چہرہ بھی قابل دید ہے