19 دسمبر 2012 - 20:30

پاکستان میں گویا حکومت کے اندر اصل حکومت سے کہیں زيادہ طاقتور حکومت دہشت گردوں کی ہے جو ملک کے اندر اور حکومت کی عملداری میں رہ کر عام شہریوں، سرکاری افسروں، فوجی اہلکاروں اور پولیس والوں نیز صحافیوں کو دھمکی ہی نہیں دیتی بلکہ انہیں قتل بھی کرتی ہے اور قتل کی ذمہ داری بھی قبول کرتے ہيں۔ کوئٹہ میں حال ہی میں ایک سرکاری افسر خادم حسین نوری کے قتل کی ذمہ داری کالعدم کہلانے والی فعال اور سرگرم دہشت گرد ٹولے نے قبول کی ہے اور کہا ہے کہ وہ جب دہشت گردانہ کاروائی کرتے ہیں تو پولیس اہلکاروں کو تماشا دیکھنا چاہئے ورنہ انہیں قتل کیا جائے گا اور صحافی اگر ان کی دہشت گردی کو کوریج نہ دیں تو انہیں بھی قتل کیا جائے گا۔ جس ملک میں جرم کے بدلے سزا کا تصور ختم ہوجائے اس ملک کے لئے اس سے بہتر انجام کی توقع سمجھ سے باہر ہے۔

/110