17 دسمبر 2012 - 20:30

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان رامین مہمان پرست نے ایران سے باہر ایرانی شہریوں پر الزام تراشی کو اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف مغرب کے ڈرامے کا ایک حصہ قرار دیا ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان رامین مہمان پرست نے برطانیہ میں سابق ایرانی سفارتکار نصرت اللہ تاجیک کے خلاف کیس ختم ہونے کے سوال پر کہا: افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بعض مغربی ممالک نے ایرانی شہریوں پر الزامات لگا کر اسلامی جمہوریہ ایران کے قومی مفادات کو نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس قسم کے طے شدہ اقدامات کا مقصد ملت ایران پر دباؤ میں اضافہ کرنا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ان ڈراموں کے ضمن میں مغربی ممالک مختلف افراد پر ـ بقول ان کے ـ ممنوعہ اشیاء کی تجارت سمیت مختلف الزامات لگائے جاتے ہیں اور آسانی سے افراد کے حقوق کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ویسٹ منسٹر کی عدالت نے 13 دسمبر 2012 کو اردن میں ایران کے سابق سفارتکار نصراللہ تاجیک کی رہائی کا حکم دیا۔نصراللہ تاجیک کو، جو ڈورہام (Durham) یونیورسٹی میں پڑھا رہے تھے، 2006 میں ایک طے شدہ سازش کے تحت امریکی پولیس ایف بی آئي کے کہنے پر ـ ایران کے لیے نائٹ وژن کیمروں کی خریداری کی کوشش کے الزام میں ـ برطانوی پولیس نے گرفتار کرکے اپنے گھر میں نظربند کر لیا تھا جہاں چھ سال رہنے کے بعد ان کے اوپر جھوٹا کیس ختم کردیا گیا۔تاجیک نے رہائی کے بعد اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ برطانوی وزیر داخلہ کو عدالت کے کٹہرے میں لائے بغیر چین سے نہيں بیٹھیں گے کیونکہ انہیں بڑے اذیت ناک دور سے گذرنا پڑا ہے اور انہیں اس دور میں مختلف بیماریوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110

بشکریہ از ریڈیو تہران