ابنا: ترکی کے ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق یہ میزائل جو زمین سے ہوا میں مار کرنے اور بیلسٹک میزائلوں کا تعاقب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں آئندہ چار سے پانچ ہفتوں کے دوران ترکی پہنچ جائیں گے۔ان ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ جرمنی، امریکہ اور ہالینڈ ہی وہ ممالک ہیں جن کے پاس جدید ترین پیٹریاٹ میزائل ہیں اور ان تینوں ملکوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ وہ اپنے پیٹریاٹ میزائل کے دو سسٹم ترکی منتقل کریں گے۔دوسری طرف ترک حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ان میزائلوں کو شام کے ممکنہ میزائلی حملوں سے ترک شہویوں کو محفوظ رکھنے کے لئے نصب کررہی ہے۔دریں اثنا ترکی کی حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے نائب صدر عثمان فاروق اوغلو نے اس فیصلے کی مذمت کی ہے اور یہ سوال کیا ہے کہ کیا شام کی طرف سے ترکی کو اس کے میزائلی حملے کا خطرہ ہے جو ترک حکومت نے نیٹو سے اپنے یہاں پیٹریاٹ میزائل نصب کرنے کی درخواست کی ہے ؟۔۔۔۔۔۔۔۔/110
10 دسمبر 2012 - 20:30
News ID: 371326
ترکی اور شام کی سرحدوں پر نیٹو کے ذریعہ پیٹریاٹ میزائل نصب کئے جانے کے منصوبے کے خلاف ترک عوام کا احتجاج بدستور جاری ہے۔