10 دسمبر 2012 - 20:30

ترکی اور شام کی سرحدوں پر نیٹو کے ذریعہ پیٹریاٹ میزائل نصب کئے جانے کے منصوبے کے خلاف ترک عوام کا احتجاج بدستور جاری ہے۔

ابنا: ترکی کے ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق یہ میزائل جو زمین سے ہوا میں مار کرنے اور بیلسٹک میزائلوں کا تعاقب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں آئندہ چار سے پانچ ہفتوں کے دوران ترکی پہنچ جائیں گے۔ان ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ جرمنی،  امریکہ اور ہالینڈ ہی وہ ممالک ہیں جن کے پاس جدید ترین پیٹریاٹ میزائل ہیں اور ان تینوں ملکوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ وہ اپنے پیٹریاٹ میزائل کے دو سسٹم ترکی منتقل کریں گے۔دوسری طرف ترک حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ان میزائلوں کو شام کے ممکنہ میزائلی حملوں سے ترک شہویوں کو محفوظ رکھنے کے لئے نصب کررہی ہے۔دریں اثنا ترکی کی حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے نائب صدر عثمان فاروق اوغلو نے اس فیصلے کی مذمت کی ہے اور یہ سوال کیا ہے کہ کیا شام کی طرف سے ترکی کو اس کے میزائلی حملے کا خطرہ ہے جو ترک حکومت نے نیٹو سے اپنے یہاں پیٹریاٹ میزائل نصب کرنے کی درخواست کی ہے ؟۔۔۔۔۔۔۔۔/110