8 دسمبر 2012 - 20:30

اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب وزیر خارجہ مجتبی فردوسی پور نے حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ خالد مشعل کے دورۂ غزہ کو صہیونی ریاست کے مقابل استقامت کی کامیابی کی علامت قراردیاہے۔

ابنا: مجتبی فردوسی پور نے آئی آر آئی بی کے نمائندے سے بات چیت کرتے ہوئے حماس کے قیام کی پچیسویں سالگرہ کی تقریب میں شرکت کی غرض سے خالد مشعل کے دورۂ غزہ کو صہیونی ریاست کی توسیع پسندیوں کے مقابلے میں غزہ کے عوام کی استقامت کی علامت قراردیا۔انہوں نے کہا: ملت فلسطین کو ہر دور سے زیادہ آج واحد اور متحدہ قیادت کی ضرورت محسوس ہورہی ہے۔ چنانچہ اگر حماس اور جہاد اسلامی تنظیموں سمیت تمام سیاسی دھڑوں کی شراکت سے قومی اتحاد کی حکومت قائم ہوجائے تو وہ فلسطینی حکومت فوجی اور سیاسی شعبوں میں صہیونی فوج کی جارحیتوں کا زیادہ طاقت کے ساتھ مقابلہ کرسکے گی لہذا اختلافات کا خاتمہ فلسطین میں قومی اتحاد کی حکومت کی تشکیل پر منتج ہوسکتا ہے۔فردوسی پور نے ماضي میں حماس اور فتح تحریک کے باہمی اختلافات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کی آٹھ روزہ جنگ میں تمام تحریکوں نے نے ایک ساتھ مل کر مقابلہ کیا جس کے نتیجے میں ملت فلسطین کو بڑی اہم کامیابی حاصل ہوئي لہذا ملت فلسطین کو آج ہر دور سے زیادہ فلسطین کے مختلف گروپوں اور سیاسی دھڑوں کے درمیان اتحاد و یکجہتی کی ضرورت ہے۔فابل ذکر ہے کہ حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ 56 سالہ خالد مشعل، جو 1967 میں کہ جب صہیونی ریاست نے غرب اردن اور غزہ پٹی پر حملہ کیا تھا اپنے اہل خانہ کے ساتھ فلسطین چھوڑنے پر مجبور ہوگئے تھے، گزشتہ روز غزہ پٹی پہنچے ہیں۔واضح رہے کہ صہیونی ریاست نے خالد مشعل کے دورہ غزہ کی مخالفت نہیں کی لیکن اعلان کیا کہ اگر جہاد اسلامی کے سربراہ ڈاکٹر رمضان عبداللہ غزہ آجائیں تو جنگ بندی کو نظر انداز کیا جائے گا اور انہیں قتل کیا جائے گا اور یہ سوال بہرحال تشنہ جواب ہے کہ خالد مشعل کو کیونکر غزہ جانے دیا گیا اور رمضان عبداللہ کے کیوں وہاں جانے سے روک دیا۔ بشکریہ از ریڈیو تہران۔۔۔۔۔۔۔۔/110