اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، 42 ممالک اور یورپی یونین نے مشترکہ بیان میں طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کے خلاف امتیازی سلوک اور منظم جبر کا سلسلہ فوری طور پر ختم کیا جائے۔
فرانس کی جانب سے تیار کیے گئے اس مشترکہ بیان کو بدھ 25 شہریور کو افغانستان کے بارے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کے موقع پر پیش کیا گیا۔ بیان پر دستخط کرنے والے ممالک نے طالبان کی پالیسیوں کو «صنفی امتیاز» اور خواتین و لڑکیوں کے خلاف «مسلسل اور منظم جبر» قرار دیتے ہوئے اس کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی۔
ان ممالک نے افغانستان کی خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صنفی تفریق کی پالیسی ختم ہونی چاہیے۔ انہوں نے طالبان سے مطالبہ کیا کہ خواتین اور لڑکیوں کے حقوق پر عائد تمام پابندیاں ختم کی جائیں اور انسانی حقوق کی ہر قسم کی خلاف ورزی کا سلسلہ روکا جائے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس گزشتہ روز منعقد ہوا، جس میں افغانستان میں انسانی حقوق کی صورتحال، بالخصوص خواتین کے حقوق، افغانستان کی سرزمین سے لاحق دہشت گردی کے خطرات اور ہزارہ و شیعہ برادریوں کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
مختلف ممالک کے نمائندوں نے طالبان کی پالیسیوں کو صنفی امتیاز قرار دیتے ہوئے اسے ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
افغانستان کی سابق وزیر معدنیات و پٹرولیم نرگس نہان نے بھی طالبان کی ان پالیسیوں کو «صنفی نسل پرستی» قرار دیا اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ اس صورتحال کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔
آپ کا تبصرہ