30 نومبر 2012 - 20:30

شام میں جمہوریت کے قیام کا جھوٹا نعرہ لگاکر دہشت گردوں کو ہتھیار اور رقم بھجواکر نہتے عوام کے خون میں ہاتھ رنگنے والے قطری حکمران خاندان نے اپنی مطلق العنانیت کے خلاف قصیدہ پڑھنے والے شاعر کو نمائشی مقدمہ چلا کر قید کی سزا سنائی ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق آل ثانی حکومت نے جمہوریت پسند شاعر محمد بن الذیب العجمی پر نمائشی مقدمہ چلاکر انہیں قید کی سزا سنائی ہے۔ العجمی نے ایک قصیدے کے ضمن میں مطلق العنان حکمران خاندان پر تنقید کی تھی۔ بلادالحرمین کے لبرل نیٹ ورک کے رکن علی مہدی آل حطاب نے العجمی کو ایک قصیدے کی پاداش میں عمر قید کی سزا کو بےمثل قرار دیا ہے اور کہا کہ ایک قصیدے کی پاداش میں عمر قید کی سزا کی مثال پوری تاریخ میں نہيں ملتی۔ انھوں نے العالم کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا: العجمی پر کو سزا در حقیقت عدلیہ کے قوانین اور ضوابط کے تحت نہيں تھی بلکہ یہ تو بس آزادی اظہار اور آزادی فکر کو سزا دی گئی ہے۔ انھوں نے کہا: جمہوریت پسند شاعر محمد بن الذیب العجمی پر نمائشی مقدمے میں تمام قوانین اور ضوابط کو پاؤں تلے روندا گیا ہے؛ فیصلہ تحقیقاتی جج نے پڑھ کر سنایا جبکہ عدالت میں نہ مذکورہ شاعر حاضر تھا اور نہ ہے اس کا وکیل نجیب النعیمی موجود تھا اور العجمی کو قانون کے تحت اپنا دفاع کرنے کا موقع ہی نہيں دیا گیا اور یہ قطر کے داخلی قوانین کے بھی منافی ہے۔ آل حطاب نے کہا: العجمی کی سزا کا فیصلہ غیرقانونی اور محض سیاسی فیصلہ ہے؛ اس شاعر کو سزا سنائی گئی کیونکہ اس نے "ثورة الياسمين" (گل ياسمین کا انقلاب)" کے عنوان سے ایک قصیدہ کہا جو عربی بہار کے انقلابات کے موقع پر شائع ہوا اور یہ موقع عرب حکام ـ بالخصوص خلیج فارس کی ریاستوں" کے حکام ـ کے نزدیک نہایت حساس مرحلہ سمجھا جاتا ہے اور اسی وجہ سے اس شاعر پر ظالمانہ انداز سے مقدمہ چلایا گیا اور اس کو ظالمانہ سزا سنائی گئی چنانچہ کہا جاسکتا ہے کہ قطر کی عدالت نے آزادی اظہار اور آزادی فکر پر مقدمہ چلایا ہے اور پھر العجمی ایک عوامی شاعر ہے اور عالم عرب میں اس کے حامیوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے۔ انھوں نے کہا: قطر کے حکمرانوں کو اس فیصلے کی بہت بڑی قیمت ادا کرنی پڑے گی اور انہیں شدید نکتہ چینیوں کا سامنا کرنا پڑے گا یہاں تک کہ وہ اس شاعر کو رہا کرنے کے لئے بہانے ڈھونڈنا شروع کریں گے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110