اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے ملک میں دہشتگردی کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دھماکے دشمن کا کام ہے، ہم سب کو مل کر دشمن کی سازش کو ناکام بنانا ہوگا، مشکل گھڑی میں پاکستانی عوام کو تنہا نہیں چھوڑینگے، ہمیں ایک دوسرے کو قتل نہیں کرنا چاہیے، دہشتگردی کے حل کیلئے پاک افغان اور ایران کے علماء کا اجلاس بلانا چاہیے، مغربی طاقتیں پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کے خلاف سازش کررہی ہیں، افغانستان میں امریکی افواج کی موجودگی پورے خطے کیلئے خطرہ ہے، شام کے مسئلے کا حل انتخابات ہیں، اسرائیل آج کا یزید ہے، جنگ بندی کے معاہدے پر عمل نہیں کریگا۔ابنا: جیو نیوز کے پروگرام ”کیپیٹل ٹاک“ کے میزبان حامد میر کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے پاکستان میں ڈی ایٹ کانفرنس کے موقع پر دہشتگردی کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ دھماکے دشمن کا کام ہے ہم سب کو ملکر دشمن کی سازش کو ناکام بنانا ہوگا انہوں نے کہاکہ ایران اور عوام مشکل گھڑی میں پاکستان اور عوام کے ساتھ ہیں ایران اپنے پاکستانی بھائیوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر احمدی نژاد نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان، ایران اور افغانستان کے علماء کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے، جس میں دہشت گردی کے خلاف ایک متفقہ لائحہ عمل اختیار کیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں ایک دوسرے کا قتل نہیں کرنا چاہیے؛ ایک دوسرے کو قتل کرکے دشمن کو مضبوط اور خود کو کمزور بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں دہشت گرد حملوں اور دھماکوں سے گھبرانے والے نہیں، پاکستانی عوام بہادری سے مقابلہ کر رہے ہیں، مغربی طاقتیں پاکستان کو آگے بڑھنے دینا نہیں چاہتیں۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے پیغمبر(ص) مسلمان تھے سنی یاشیعہ نہیں تھے، ہم سب مسلمان ہیں ہمارا خدا ایک نبی (ص) ایک اور کتاب ایک ہے، ہم سب کو اللہ کے نبی کے بتائے ہوئے راستے پر چلنا چاہیے ایک دوسرے کے خلاف غلط فہمیوں کو ختم کرنا ہوگا، ہم سب کو صرف مسلمان بن کر سوچنا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ جب تک ہم سب متحد نہیں ہونگے اس وقت دشمن فائدہ اٹھاتا رہے گا۔ ایک سوال کے جواب میں محمود احمدی نژاد نے کہاکہ مغربی طاقتیں پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ امریکہ 2014 کے بعد بھی افغانستان سے نہیں جائے گا اور جب تک امریکہ خطے سے نہیں نکلے گا امن قائم نہیں ہوگا اور ہماری سکیورٹی کو خطرہ رہے گا۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اسرائیل آج کا یزید ہے بے دردی سے فلسطینیوں کو شہید کررہا ہے تمام مسائل کے حل کیلئے امت مسلمہ کو ایک پلیٹ فارم پر متحد ہونا پڑے گا۔ ایرانی صدر نے اسرائیل فلسطین کے درمیان جنگ بندی کا خیر مقدم کیا تاہم انہوں نے کہاکہ مجھے نہیں لگتا اسرائیل معاہدے پر قائم رہے گا۔شام کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے ایرانی صدر نے کہاکہ شام کے مسئلے کا حل انتخابات ہیں۔ انہوں نے کہاکہ امریکہ شام میں ایران پر مداخلت کا الزام لگا رہا ہے حالانکہ امریکہ خود پوری دنیا میں مداخلت کررہا ہے امریکہ کی فوجیں عراق، افغانستان سمیت کئی ممالک موجود ہیں امریکہ ایران کے خلاف پراپیگنڈہ کررہا ہے۔
ریڈیو تہران کی رپورٹ:
ڈاکٹر احمدی نژاد نے، جو گروپ ڈی 8 کے اجلاس میں شرکت کے لئے اسلام آباد گئے ہوئے ہیں، پاکستانی ٹی وی چینل "جیو" کو دئيے گئے انٹرویو میں صہیونی ریاست کو پوری دنیا کے لئے بہت بڑا خطرہ اور مسئلۂ فلسطین اور غزہ کو مسلمانوں کے لئے سب سے اہم مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی رہنما اور امریکہ پر حاکم صہیونی آج اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ صہیونیوں کے لئے موجودہ صورت حال کو جاری رکھنا ممکن نہیں ہے اس لئے وہ جنگ شروع کرکے حالات بدلنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صھیونی پوری دنیا میں اقوام کی لوٹ کھسوٹ اور تباہ و بربادی میں ملوث ہیں۔انہوں نے غزہ پر صھیونیوں کے حملوں کے بارے میں کہا کہ غاصب صہیونی ریاست بہت سے دہشت گرد گروہوں کی پشت پناہی کر رہی ہے اور منشیات کی پیداوار، اس کی تجارت اور اقوام کی ثقافت کو تباہ کرنے میں یہ غاصب ریاست ملوث اور ہمیشہ جنگ بھڑکانے کے درپے رہی ہے۔ڈاکٹر احمدی نژاد نے اس انٹرویو میں ایران اور پاکستان کے تعلقات کے بارے میں کہا کہ دو دوست اور ہمسایہ ممالک کو اپنے دوطرفہ تعلقات کی سطح بلند کرنی چاہئے اور ایک دوسرے کی ضروریات پوری کرنی چاہئیں........./110