17 نومبر 2012 - 20:30

پاکستان کے شورش زدہ شہر کراچی کے شیعہ آبادی والے علاقے عباس ٹاون میں امام بارگاہ کے قریب دھماکے میں 2 افراد شہید اور 24 زخمی ہوگئے ہیں جبکہ بعض اطلاعات کے مطابق شہداء کی تعداد تین ہوچکی ہے/ لاڑکانہ میں فرزند رسول (ص) کی شان میں یزیدیوں کی گستاخی / لاہور میں مجلس عزا سے بم برآمد / خضدار میں ایک شیعہ دکاندار صہیونیت کے چیلوں نے ایک شیعہ دکاندار کو شہید کردیا۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق عباس ٹاؤن میں واقع امامبارگاہ مصطفی کے باہر بم دھماکے میں 2 افراد شہید اور دسیوں زخمی ہوگئے ہیں جبکہ بعض اطلاعات کے مطابق شہداء کی تعداد تین تک پہچ گئی ہے۔ بم دھماکے سے کئی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے، اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔ اطلاعات کے مطابق ابوالحسن اصفہانی روڈ پر عباس ٹاون کی امامبارگاہ مصطفی کے باہر مجلس عزاداری کے دوران موٹرسائیکل پر نصب بم ریموٹ کنٹرول کے ذریعے دھماکے کے ساتھ پھٹ گیا جس کے بعد فائرنگ شروع ہوئی۔شیعہ تنظیموں اور قائدین کے ساتھ ساتھ مختلف سیاسی اور مذہبی شخصیات نے دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس کو بزدلانہ کاروائی قرار دیا ہے۔اطلاعات کے مطابق جبکہ شہید ہونے والوں میں شیعہ نوجوان اظہر عباس اور ایک اہل سنت برادر شامل ہیں۔کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی گئی جس سے شہداء کی تعداد میں اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ زخمیوں میں ایک رینجرز اہلکار بھی شامل ہے۔ عجب یہ کہ دھماکے کے بعد رینجرز اہلکاروں نے دہشت گردوں کا تعاقب کرنے کے بجائے مجلس کے شرکاء پر فائرنگ کی اور اب تک لگتا ہے کہ رینجرز نے دہشت گردوں کی کاروائیوں کے بعد رہی سہی کسر پوری کرنے کا منصب سنبھال لیا ہے اور جہاں بھی ممکن ہو وہ شیعیان اہل بیت (ع) کی مجالس عزا یا جلوس ہائے جنازہ کو نشانہ بناتے ہیں!دریں اثناء سندھ کے شہر لاڑکانہ سے موصولہ اطلاعات کے بعد یزیدی دہشت گردوں نے فرزند رسول سیدالشہداء امام حسین علیہ السلام کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے آپ (ع) کی شان میں نازیبا الفاظ استعمال کئے ہیں اور محرم کے سلسلے میں لگنے والی پانی کی ایک سبیل پر حملہ کیا ہے اور ثابت کیا ہے یہ یزیدیت آج بھی حسینیت کی تمام نشانیوں کو مٹانے کی ناکام کوششوں میں مصروف ہے۔واضح رہے کہ محرم الحرام میں شیعہ اور سنی مسلمان حضرت امام حسین علیہ السلام اور شہدائے کربلا کی یاد میں پانی کی سبیلوں کا اہتمام کرتے ہیں جہاں چوبیس گھنٹے لوگ پانی پی کر تشنگان کربلا کو یاد کرتے ہیں۔ اہل سنت مسلمان حضرت امام حسین علیہ السلام کی شہادت کو مذہبی عقیدت کے ساتھ مناتے ہیں اور دوسری جانب کالعدم دہشت گرد تکفیری ٹولے طویل عرصے سے شیعہ اور سنی مسلمانوں کے درمیان تفرقہ ڈالنے اور اہل سنت مسلمانوں کو امام حسین علیہ السلام کی عزاداری سے دور کرنے اور شیعہ اور سنی مسلمانوں کو امام حسین علیہ السلام کی یاد منانے سے روکنے کی سازشوں میں مصرف عمل ہیں۔ ادھر لاہور سے موصولہ اطلاعات کے مطابق امامیہ کالونی میں مجلس عزا کے قریب سے  ایک بم برآمد کیا گیا۔ واضح رہے کہ امامیہ کالونی میں مجلس عزا کے مقام پر رکھا ہوا ریموٹ کنٹرول بم سرکاری فورسز نے نہیں بلکہ اسکاؤٹس نے برآمد کیا اور بم ڈسپوزل اسکواڈ نے اسے ناکارہ بنادیا۔ واضح رہے کہ حکومت نے تمام شہروں میں سیکیورٹی کو ہائی الرٹ کرتے ہوئے فول پروف انتظامات کے جبکہ کالعدم تکفیری ٹولوں نے اس سال خاص طور پر، عزاداری امام حسین علیہ السلام کو نقصان پہنچانے کے دعوے بھی کیے ہیں۔ادھر بلوچستان کے شہر خضدار میں تکفیری دہشت گردوں نے فائرنگ کرکے ایک شیعہ دکاندار "ہاشم" کو شہید کردیا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق ہاشم اپنی دکان پر بیٹھے ہوئے تھے کہ صہیونیت کے یزیدی تکفیری چیلوں نے فائرنگ کرکے انہیں شہید کردیا جس کے بعد ان کے جس خاکی کو مقامی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔شیعہ قومی جماعتوں نے شہید ہاشم کے قتل پر سخت احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ناصبی دہشت گردوں کو فی الفور گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔واضح رہے کہ شیعہ دکاندار ہاشم کی شہادت کے بعد علاقے میں سخت خوف ہراس کے ساتھ ساتھ شدید کشیدگی پائی جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110