عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی ـ دنیا کے کروڑوں مسلمانوں کی فکری، علمی اور ثقافتی مرجعیت کی حامل بین الاقوامی ادارے کی حیثیت سے ـ غزہ پر صہیونی ریاست کے حملے ـ خاص طور پر شہید احمد الجعبری پر دہشت گردانہ حملے ـ کی پرزور مذمت کرتے ہوئے مسلمانوں نیز دنیا بھر کے حریت پسندوں اور حق پرستوں کو دعوت دیتی ہے کہ وہ درج ذیل روشوں سے غزہ کے عوام کو درپیش المیوں پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے صہیونی اقدامات کے خاتمے کا مطالبہ کریں۔اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی نے قیام کربلا کی یاد میں منائے جانے والے مراسمات اور ماہ محرم الحرام کے آغاز پر زمانے کے یزیدیوں کی جانب سے غزہ دنیا کے مسلمین و حریت پسندوں کے نام ایک بیان جاری کیا:اہل بیت (ع) اسمبلی نے اس بیان میں محرم الحرام 1429 (جنوری 2008) میں غزہ پر صہیونی یزیدیوں کے حملے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے: "گویا غزہ کے مظلوم عوام کا مقدر واقعۂ کربلا اور فرزند رسول سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کے ساتھ رقم ہوا ہے؛ کیونکہ آج چار سال کا عرصہ گذرجانے کے بعد دوسری بار محرم الحرام اور عاشورائے حسینی کی آمد پر یہ مظلومین ایک بار پھر صہیونی یزیدیوں کے حملوں کا نشانہ بنے ہے"۔ اس بیان میں مسلمانوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ امریکہ اور مغربی ممالک کے سفارتخانوں کے سامنے ریلیاں، دھرنے اور مظاہرے منعقد کریں یا بیانات جاری کریں اور حقائق کو فاش کرنے کے لئے سیمینار اور تصویریں نمائشیں منعقد کریں اور ان جرائم پر اعتراض کرتے ہوئے رائے عامہ کو غزہ کے مظلوم عوام کے حقائق سے آگاہ کریں۔عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی کے بیان کے مکمل متن کا اردو ترجمہ:
بسم الله الرحمن الرحیم
قال الله الحکیم: "وَمَا نَقَمُوا مِنْهُمْ إِلاَّ أَن يُؤْمِنُوا بِاللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ"۔ (البروج ـ 8)
اور انہیں ان (مومنوں) کی طرف سے اور کچھ (بھی) ناگوار نہ تھا سوائے اس کے کہ وہ اللہ پر ایمان لے آئے تھے جو غالب (اور) لائقِ حمد و ثنا ہے۔
سلام ہو محرم پر؛ جو شہادت، مظلومیت، غیرت و وغریب الوطنی اور شمشیر پر خود کی فتح کا مہیہنہ ہے...سلام ہو فرزند رسول حضرت حسین بن علی (علیہم السلام) پر جنہوں نے اپنے خون کا نذرانہ دے کر اسلام کو زندہ کیا اور احرار عالم کے لئے قابل تقلید نمونہ بن گئے...اب جبکہ بحرین میں غدار حکمرانوں کے ہاتھوں اور شام، پاکستان اور عراق میں مجرم امریکہ کے کرائے کے خونخوار دہشت گردوں کے ہاتھوں، مسلمانوں کے بہنے والے خون ناحق پر عالم اسلام کی آنکھیں اشکبار ہیں؛ اور اہل بیت (علیہم السلام) کے پیروکار و محبین ایام محرم کی عزاداری کی تیاریاں کررہے ہیں، ہمیں ایک بار پھر غزہ میں المیۂ کربلا کا سامنا ہے۔گویا غزہ کے مظلوم عوام کا مقدر حادثۂ کربلا اور فرزند رسول حضرت سیدالشہداء امام حسین بن علی (علیہ السلام) کے ساتھ رقم ہوا ہے؛ کیونکہ اس بار بھی محرم الحرام 1429 (جنوری 2008) میں ہونے والی غزہ کی پہلی جنگ سے چار سال گذرنے کے بعد دوسری بار بھی محرم الحرام اور عاشورائے حسینی کی آمد پر انہیں صہیونی یزیدیوں کی یلغار کا سامنا ہے۔ غزہ پٹی پر صہیونی ریاست کی یلغار ایسے حال میں شروع ہوئی ہے اور جاری ہے کہ امریکہ اور برطانیہ سمیت کئی ممالک نے غاصب اور جارح صہیونی حکمرانوں کی حمایت کرتے ہوئے فلسطینی مسلمانوں کی دفاعی کاروائیوں کی مذمت کی ہے؛ اور بہت سے مستقل اور بظاہر جمہوریت اور حریت پسندی کے دعویدار ممالک نے بھی زبانی جمع خرچ پر اکتفا کرتے ہوئے کھوکھلے اور سست، جامد اور انفعالی بیانات جاری کرکے اپنا سا رد عمل ظاہر کیا ہے۔ افسوس کا مقام ہے کہ صہیونی یلغار کا جائزہ لینے والا سلامتی کونسل کا اجلاس بھی کوئی فیصلہ کئے بغیر ختم ہوچکا ہے۔عرب قدامت پسند حکومتوں نے بھی ـ جو عوامی انقلابات کے خوف سے مغربی طاقتوں کی گود میں پناہ لئے بیٹھے ہیں ـ معمول کے مطابق ہلاکت خیز خاموشی اپنائی ہوئی ہے اور نمائشی اور بے فائدہ اقدامات کے ذریعے اپنے ریکارڈ میں ایک اور شرمناک صفحہ رقم کیا ہے۔ عرب لیگ جو شام میں ہر سچی اور جھوٹی خبر پر رد عمل ظاہر کرتی ہے اور تکفیری ٹولوں کو تقویت پہنچاتی ہے، بھی صرف لفظی طور پر ـ ذمہ داری اپنے کندھے سے اتارنے کی خاطر ـ ان آشکار جارحیتوں کی مذمت کرتی ہے اوراس نے ـ اس غاصب و جارح ریاست کے ساتھ عرب ممالک کے سفارتی تعلقات منقطع کرنے اور اس نے صہیونی ریاست کی مصنوعات کا مکمل مقاطعہ (بائیکاٹ) کرنے ـ کے سلسلے میں کوئی مؤثر اور عملی قدم نہيں اٹھایا ہے۔ عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی ـ دنیا کے کروڑوں مسلمانوں کی فکری، علمی اور ثقافتی مرجعیت کی حامل بین الاقوامی ادارے کی حیثیت سے ـ اس واقعے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے دنیا بھر کے حریت پسندوں اور حق پرستوں کو ذیل کے نکات کی طرف توجہ دینے کی دعوت دیتی ہے:
1۔ ہم غزہ کے نہتے عوام پر صہیونی ریاست کی یلغار اور جرائم ـ بالخصوص شہید احمد الجعبری پر دہشت گردانہ حملے ـ کی پرزور مذمت کرتے ہوئے تمام مسلمانوں نیز دنیا بھر کے حریت پسندوں اور حق پرستوں کو دعوت دیتی ہے کہ وہ درج ذیل روشوں سے غزہ کے عوام کو درپیش المیوں پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے صہیونی اقدامات کے خاتمے کا مطالبہ کریں:الف) سب سے پہلے اور فوری اقدام کے طور پر تمام مسلمان ۔۔۔ ریلیاں نکال کر نسل پرست صہیونی ریاست اور اس کے حامیوں ـ بالخصوص جرائم پیشہ امریکہ اور بعض خاموش اور غدار عرب اور غیر عرب حکمرانوں ـ سے اپنی نفرت و بیزاری کا اظہار کریں۔ ب) امریکہ اور مغربی ممالک کے سفارتخانوں کے سمانے اجتماع منعقد کرکے اور دھرنے دے کر ان کی طرف سے جعلی صہیونی ریاست کی حمایت کی مذمت کریں اور امریکہ اور مغرب کی طرف سے اس ریاست کو لگام دیئے جانے کا مطالبہ کریں۔ ج) شام کی حکومت کے خلاف اقدام کرکے غاصب صہیونی ریاست کا مقابلہ کرنے والے مزاحمت محاذ کو کمزور کرنے والے خائن عرب و غیر عرب حکومتوں کے خلاف بیانات دینے، اور ملک گیر مظاہرے، دھرنے اور اجتماعات منعقد کرکے ان کے خلاف واضح موقف اپنائیں۔ د) صہیونی ریاست کا چہرہ بے نقاب کرنے اور مسئلہ فلسطین کے حقائق منکشف کرنے کے لئے مسلم اور غیر مسلم مفکرین اور دانشوروں کی شرکت سے سییمینار کریں؛ فلسطین پر غاصب صہیونیوں کے قبضے کے بعد سے اب تک کے حقائق کو فاش کرنے کے لئے تصویریں نمائشوں کا انعقاد کریں اور سازشی محاذ کے مقابلے میں مزاحمت محاذ میں شامل ممالک اور تنظیموں کے موقف کی تشریح کریں تا کہ بر وقت اطلاع رسانی اور رائے عامہ کو آگاہ کرکے صہیونیوں تشہیری اور ابلاغی غلبے کو توڑ دیا جائے۔
2۔ تمام دانشوروں اور عالم اسلام کے علماء سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ان نہایت اہم اور خطرناک حالات میں امت اسلامی کے اتحاد و یکجہتی کو تقویت پہنچانے کے ضمن میں، محرم الحرام کے ایام سے استفادہ کرکے عوام کو تحریک حسینی کی حقیقت سے آگاہ کریں اور انہیں کربلا کے قیام کی پیروی کرتے ہوئے ظلم و ناانصافی اور یزیدیوں کے خلاف جدوجہد کی ترغیب دلائیں۔
3۔ ہم بین الاقوامی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ اپنے قانونی فرائض پر عمل کرتے ہوئے ان درندگیوں اور جرائم کی مذمت کے ضمن میں ان جرائم کے خاتمے کے لئے عملی اقدام کریں اور فلسطینیوں کو ان کے پامال شدہ تاریخی حقوق واپس دلانے میں کردار ادا کریں۔
4۔ اسلامی تعاون تنظیم سے توقع رکھتے ہیں کہ ہنگامی اور فوری اجلاس منعقد کرکے فوری طور پر عملی اقدامات عمل میں لائے اور اپنی پوری قوت سے فلسطینی عوام کے دفاع کے لئے میدان میں اترے اور رکن ممالک کی سفارتکاری کو فعال کرتے ہوئے ـ اقوام متحدہ، عرب ليک، غیروابستہ تحریک اور علمائے مسلمین ایسوسی ایشن جیسی عالمی اداروں اور تنظیموں ـ کو متحرک ہونے پر آمادہ کرے۔
5۔ دریں اثناء مسلم نوجوانوں کی جان نثاریوں اور قربانیوں کے بدولت برسراقتدار آنے والی انقلابی ممالک (یعنی) "تیونس، مصر، لیبیا اور یمن" کی حکومتوں کی ذمہ داری دوسرے ممالک سے کہیں زیادہ بھاری ہے؛ بالخصوص مصر پر بھاری ذمہ داری ہوتی ہے جس کے ہاتھ میں اہم رفح گذرگاہ بھی ہے اور جس کو شرمناک کیمپ ڈیویڈ معاہدہ ورثے میں ملا ہے۔
آخر میں فلسطین، شام اور بحرین کے عوام سے درخواست کریں کہ ظالموں کے مقابلے میں استقامت جاری رکھیں اور امیدیں اللہ کی نصرت سے باندھ لیں جس نے وعدہ فرمایا ہے کہ: "إِنَّ اللَّهَ يُدَافِعُ عَنِ الَّذِينَ آمَنُوا"۔ (الحج ـ 38) (بیشک اﷲ مؤمنوں سے کا دفاع کرتا رہتا ہے)؛ جس طرح کہ (2006لبنان کی) 33 روزہ اور (2008 میں غزہ کی) 22 روزہ جنگوں اور عرب انقلابات اور ان سے قبل ایران کے اسلامی انقلاب میں، ہم سب نے دیکھا۔ امید ہے کہ غاصب صہیونی ریاست زیادہ سے زیادہ تنہا ہوجائے اور یہ سرطانی پھوڑا ـ جو حضرت امام خمینی (رحمۃ اللہ علیہ) اور حضرت امام خامنہ ای (دام ظلہ العالی) کے ارشادات کے بعد عنقریب نیست و نابود ہونے والا ہے) ـ مسلمانوں کے قدموں تلے کچلا جائے اور مسلمانوں کا قبلۂ اول، آزاد ہوجائے۔يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ۔
عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی 30 ذوالحجۃالحرام 143316 نومبر 2012