ابنا: خلیج فارس تعاون کونسل کے جنرل سکریٹری عبداللطیف ا لزیانی نے تیرہ نومبر کو کہا کہ اس اصلاحئے کا مقصد رکن ممالک کے درمیان سیکورٹی شعبے میں تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔ الزیانی نے زور دے کر کہا کہ خلیج فارس تعاون کونسل کے رکن ممالک کے وزرائے داخلہ نے "خلیج پولیس" کے نام سے ایک ادارہ قا ئم کرنے کے منصوبے کے بارے میں مذاکرات اور بات چیت کی۔ یہ مذاکرات ایسے حال میں انجام پائے ہیں کہ سعودی عرب بحرین حتی کویت سمیت خلیج فارس تعاون کونسل کے رکن بعض ممالک کو سیاسی بحران اور بدامنی کا سامنا ہے۔ ایسا نظر آتا ہے کہ خلیج فارس تعاون کونسل کے رکن ممالک خلیج فارس پولیس کے بارے میں مذاکرات اور سیکورٹی معا ہدے میں ا لحاقی پروٹوکول کے ذریعے اپنے درمیان ایک طرح کی با ہمی یکجہتی پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں تا کہ اپنے مسائل پرقابو پاسکیں لیکن خلیج فارس تعاون کونسل کی تاریخ میں ایک موضوع نمایاں طور پر ظا ہرہے اور وہ اب تک ہونے وا لے اجلاسوں میں موجود اختلاف رہا ہے۔ ایک ہفتہ قبل منا مہ میں ہونے وا لے اجلاس میں اگرچہ خلیج فارس تعاون کونسل کے ا راکین کے درمیان ایک ا دارے میں رکن ملکوں کے درمیان اتحاد کے منصوبے پرعمل درآمد کی مجوزہ منصوبہ ایک مرکزی موضوع تھا لیکن اس سلسلے میں سعودی عرب کے ساتھ قطر اور متحدہ عرب امارات کے اختلافات کا اثر منامہ اجلاس پر نمایاں طور پر نظرآیا؛ یہا ں تک کہ اس منصوبے پرگفتگو کو کونسل کے دوسرے اجلاس تک کے لئے ٹال دیا گیا۔ خلیج فارس تعاون کونسل کے بعض رکن ممالک کو اس کونسل میں سعودی عرب کے مرکزی کردار پرا عتراض ہے۔ اسی اثناء میں 1981میں خلیج فارس تعاون کونسل کے عنوان سے تشکیل پانے والی اس کونسل پر رکن ممالک کے درمیان سرحدی اور ارضی اختلافات اثر انداز ہوتے آئے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے ساتھ سعودی عرب کے اور قطر کے سا تھ بحرین کے ا رضی اختلافات بھی وہ تنازعات ہیں جو اس کونسل کی تشکیل کو تیس سال سے زيادہ عرصہ گذرنے کے باوجود جوں کے توں ہیں۔ ا قتصادی مسائل میں بھی خلیج فارس تعاون کونسل کے رکن چھ ممالک سعو دی عرب، قطر، متحدہ امارات، بحرین، کویت اور عمان کے درمیان واحد کسٹم نظام کے معاہدے کے باوجود کسٹم سے ہونے والی آمدنی کی تقسیم پر ابھی بھی اختلافات برقرار ہیں۔ یہ ممالک برسو ں سے کسٹم سے ہونے والی آمدنی کے بارے ميں مول تول کررہے ہيں لیکن چو نکہ ابھی تک ایک سینٹرل بینک قا ئم کرنے اور اضافی ڈیوٹی کے مسئلے پر متفق نہيں ہوئے ہيں لہذا خلیج فارس تعاون کونسل کے رکن ممالک کے درمیان مشترکہ کرنسی کے منصو بے پر عمل درآمد نہیں ہوسکا ہے۔ خلیج فارس تعاون کونسل کے رکن ممالک دوسرے دسیوں شعبو ں میں ایک دوسرے سے اختلاف رکھتے ہيں اور عام طور پر یہی اختلافات ان کی ایک دوسرے سے دوری کا باعث ہیں۔خلیج فارس تعاون کونسل کے رکن ممالک بظاہر اکٹھے ہوجاتے ہيں، کچھ موضوعات پر بحث کرتے ہیں اور اختتامی بیان میں بعض موضوعات کی منظوری بھی دیتے ہیں لیکن ان موضوعات پر کبھی عمل درآمد نہيں ہوتا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ تیس سال سے زيادہ کا عرصہ گذرنے کے باوجود یہ کونسل جنوبی خلیج فارس کے عرب حکام کے نہایت روایتی اور غیر مؤثر قسم کی تنظیم کی حد سے آگے نہيں بڑھ سکی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
/110