ابنا: سوچی نے آج نئی دہلی کے نہرو فاؤنڈیشن میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میانمار اور ہندوستان کی دوستی پر مجھے یقین ہے اور یہ دوستی حکومتوں کی نہیں بلکہ عوام کی دوستی ہونی چاہیئے ۔ نوبل امن پرائز کی انعام یافتہ سوچی نے مزید کہا کہ میانمار میں ڈیموکریسی کا قیام ابھی بہت دور کی بات ہے اور مجھے ہندوستان کے عوام سے جنہوں نے اس راستے کو کئی سال قبل پار کیا ہے اس سلسلے میں مدد کی توقع ہے۔آنگ سان سوچی کل ہندوستان کے 5 روزہ دورے پر نئی دہلی پہونچی ہیں۔
بشکریہ از ریڈیو تہران
واضح رہے کہ آنگ سان سوچی نے مسلمانان برما کی نسل کشی کی مذمت کرنے کے بجائے ایک یورپی ملک کے دورے کے دوران کہا تھا کہ "مسلمانوں کو برما سے چلے جانا چاہئے" اور یوں اس نے بودھ دہشت گردوں کے ہاتھوں مسلمانوں کے قتل عام کی حمایت کی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔
/110