11 نومبر 2012 - 20:30

امریکی صدر باراک اوباما نے انیس سواناسی میں ایران کے سلسلے میں امریکہ کی ہنگامی صورت حال کے فرمان کی مدت میں نو، نومبرکو ایک بار پھر توسیع کردی ہے۔

یہ ایسے عالم میں ہے کہ کانگریس میں امریکہ کی دونوں پارٹیوں ریپبلکن اور ڈیموکریٹ کے اراکین، ایران کے خلاف مفلوج کن پابندیاں عائدکرنے کاجائزہ لے رہے ہیں جس کا مقصد بقول ان کے تہران کے فوجی ایٹمی پروگرام کو روکنا ہے۔وہائٹ ہاؤس نے اپنے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ باراک اوباما نے پارلیمنٹ اورسینٹ کے نام اپنے خط میں وضاحت کی ہے کہ ایران کے ساتھ ہمارے تعلقات ابھی معمول پرنہيں آئے ہيں اور 19جنوری 1981 میں ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدے پرعمل درآمد کاعمل بدستورجاری ہے ۔امریکی صدر نے وضاحت کی ہے کہ قومی ہنگامی صورت حال کے قانون کی بنیاد پرایران کے سلسلے میں 14نومبر 1979 کی ہنگامی صورت حال کی مدت میں ایک سال کے لئے توسیع کی جاتی ہے ۔1979 میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد تہران ميں امریکہ کے جاسوسی کے اڈے پرقبضے کے بعداس وقت کے امریکی صدر جمی کارٹر نے ایران کی جانب سے امریکہ کی اقتصادی اورخارجہ پالیسی کی قومی سلامتی کے لئے نام نہاد غیرمعمولی خطرات کامقابلہ کرنے کے بہانے قومی ہنگامی صورت حال کافرمان جاری کیا تھا۔ہنگامی صورت حال کے قانون سے امریکی صدر کویہ اختیارحاصل ہوتا ہے کہ وہ امریکہ کی قومی سلامتی کے لئے اقتصادی اورخارجہ پالیسی کودرپیش غیرمعمولی خطرات کامقابلہ کرنے کے لئے پابندیوں سمیت دوسرے تمام اقدامات کرسکتا ہے۔باراک اوباما نے ایسے حال ميں ایران کے خلاف قومی ہنگامی صورت حال کی مدت میں توسیع کی ہے کہ امریکی کانگریس کے اراکین ایران کے خلاف غیرمعمولی اورمفلوج کن پابندیاں عائد کرنے کاجائزہ لے رہے ہيں جوان کے دعوؤں کے مطابق ایران کو دنیاکے بہت سے ملکوں کے ساتھ تجارت اورلین دین سے محروم کردیں گي۔ان پابندیوں کا مقصد بقول ان کے، تھران کو ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں بین الاقوامی تشویش دور کرنے پر مائل کرنا، بتایا گیا ہے جبکہ امریکہ کی وزارت خزانہ نے آٹھ نومبر کو اسلامی جمہوریہ ایران کی سترہ شخصیتوں اورسرکاری اداروں کے حکام پر پابندیاں عائدکی ہیں۔گویا امریکہ ایران کے خلاف یکطرفہ پابندیوں میں شدت اور اقتصادی دباؤ کے سلسلے میں اپنی اور اپنے اتحادیوں کی ناکام پالیسیوں کو جاری رکھنے پر اصرار کر رہا ہے ۔امریکہ اوراس کے یورپی اتحادیوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کو روکنے کے لئے ایران پر وسیع پابندیاں عائد کر رکھی ہيں امریکی صدراوباما کے نئے اقدامات بھی اسی تسلسل میں انجام پارہے ہيں گوکہ اوبامانے اپنے پہلے صدارتی دور میں دعوی کیا تھا کہ وہ ایران اور امریکہ کے درمیان مسائل کے حل کے لئے تہران کے ساتھ بلاشرط براہ راست مذاکرات کے لئے تیار ہیں لیکن عملی طور پر انھوں نے گذشتہ چاربرسوں کے دوران دباؤ میں شدت کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔ اوباما کے دورمیں ایران کے خلاف پابندیوں میں شدت آئی ہے اس کے باوجود ایران ایٹمی انرجی کے پرامن استعمال سمیت امریکہ کے ساتھ اختلافات کے بارمیں اپنے حق پسندانہ موقف پر بدستور ڈٹا ہوا ہے۔تجربے سے ثابت ہوچکا ہے کہ امریکی حکام صرف اسی وقت ایران کے خلاف یکطرفہ پابندیاں اور ہنگامی صورت حال ختم کرنے پر تیار ہوں گے جب ایران، امریکی مطالبات کی پیروی کرے جبکہ ایران اپنی مکمل خودمختاری اور مغرب بالخصوص امریکہ کے ناجائز مطالبات کی پیروی نہ کرنے پر تاکید کرتا رہا ہے۔........./110