ابنا: صدر مملکت جناب احمدی نژاد نے آج انڈونیشیا کے جزیرۂ بالی میں ایک پریس کانفرنس کے موقع پر ایران کی ایٹمی سرگرمیوں کے پرامن ہونے کے ثبوت میں یہ تجویز پیش کی کہ دنیا کے مختلف ممالک کے ایٹمی سائنسدان ، ایران کی جوہری تنصیبات کا معائنہ کریں تاکہ قریب سے انہیں معلوم ہو کہ ایران کے ایٹمی سرگرمیوں میں کسی قسم کا بھی فوجی مقصد شامل نہیں ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کئی بار اعلان کرچکا ہے کہ سبھی ممالک کے نمائندے ، ایران کی ایٹمی تنصیبات کا معائنہ کرسکتے ہیں اور ایران وہ واحد ملک ہے کہ جس نے دوسروں کو اپنی ایٹمی تنصیبات کا معائنہ کرنے کی اجازت دے رکھی ہے ۔جناب احمدی نژاد نے ایران کے بارے میں بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے رویّے کو ہدف تنقید بناتے ہوئے مزید کہا کہ ایران کے ایٹمی مسئلے کے حل کےلئے صرف اس بات کی ضرورت ہے کہ امریکہ اپنی پالیسی تبدیل کرے – صدر مملکت نے مزید کہا کہ آی اے ای اے کے معائنہ کاروں نے بارہا ایران کی ایٹمی تنصیبات کا معائنہ کرکے اعلان کیا ہے کہ ایران کی ایٹمی سرگرمیوں میں کوئی انحراف پایا نہیں گیا ہے اور ایران ایٹم بم بنانے کے درپے نہیں ہے لیکن اس ایجنسی کی جانب سے امریکہ کے ایٹمی سرگرمیوں کے بارے میں ایک بھی رپورٹ سامنے نہیں آئی ہے کیونکہ یہ ادارہ ایٹم بم رکھنے والے ممالک کے زیر اثر ہے – انہوں نے مزید کہا کہ ایران کا جوہری مسئلہ سیاسی بن گیا ہے اور آی اے ای اے اور گروپ پانچ جمع ایک نے بھی صراحت سے کہا ہے کہ ایران ، اپنا مسئلہ ،امریکی رویّے کے مطابق حل کرے -...../169
7 نومبر 2012 - 20:30
News ID: 363183
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر احمدی نژاد نے ایک بار پھر ملک کی جوہری سرگرمیوں کے پر امن ہونے پر زور دیا ہے –