4 نومبر 2012 - 20:30

اقوام متحدہ نے ميانمار کے پڑوسي ملکوں سے اپيل کي ہے کہ روہنگيا مسلمانوں کے لئے اپنے دروازے کھول ديں -

 ابنا: اقوام متحدہ کے ہائي کميشن برائے پناہ گزينان نے سنيچر کو ايک بيان جاري کرکے ميانمار ميں روہنگيا مسلمانوں کے خلاف تشدد اور وحشيانہ جرائم ميں وسعت پر تشويش ظاہر کرتے ہوئے پڑوسي ملکوں سے اپيل کي ہے کہ روہنگيا مہاجرين کے لئے اپني سرحديں کھول ديں اور انہيں پناہ ديں-اس بيان ميں کہا گيا ہے کہ اقوام متحدہ کا يہ ادارہ روہنگيا مسلمانوں کو پناہ دينے کے لئے پڑوسي ملکوں کو سہولتيں فراہم کرے گا- دوسري طرف ميانمار کي حزب اختلاف کي رہنما آنگ سان سوچي نے روہنگيا مسلمانو کے خلاف تشدد کے بارے ميں کوئي موقف بيان کرنے سے ايک بار پھر گريز کيا ہے -انہوں نے کہا ہے کہ حاليہ تشدد کي جڑوں کا پتہ لگائے بغير وہ اس بارے ميں نہ کچھ کہہ سکتي ہيں اور نہ ہي يہ سلسلہ رکوانے کےلئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کريں گي  - انہوں نے دعوا کياہے کہ تشدد کي اس لہر ميں بقول ان کے مسلمانوں اور بدھسٹوں دونوں کو نقصان پہنچا ہے -يہ ايسي حالت ميں ہے کہ  اقوام متحدہ کے ہائي کميشن برائے پناہ گزينان   کے مطابق ايک لاکھ دس ہزار سے زيادہ  روہنگيا مسلمان، کيمپوں ميں بنيادي ترين ضرورت کي سہولتوں سے محروم ہيں اور  انتہائي کسمپرسي کے عالم ميں زندگي گزار رہے ہيں - اس کے علاوہ دسيوں ہزار روہنگيا مسلمان اپني جان بچانے کے لئے  جنگلوں اور  کشتيوں  ميں زندگي گزار رہے ہيں اور تشدد کي حاليہ لہر ميں تين سو سے زائد مسلمان مارے جا چکے ہيں جن ميں اکثريت عورتوں اور بچوں کي ہے....../169