15 اکتوبر 2012 - 20:30

ايران کے صدر ڈاکٹر احمدي نژاد نے منگل کو باکو ميں اي سي او کے بارہويں سربراہي اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے تجويز پيش کي کہ رکن ملکوں کے درميان دوطرفہ اور بين الاقوامي تعاون کو فروغ دينے کے لئے سياسي و اقتصادي اور علمي و تحقيقاتي تعان کا الگ الگ فورم بنايا جانا چاہئے تاکہ رکن ملکوں کے مفادات زيادہ سے زيادہ پورے ہوسکيں –

ابنا: صدر احمدي نژاد نے کہا کہ ممبر ملکوں کے نجي اور سرکاري شعبوں کے نمائندوں کي شرکت سے اي سي او کے اقتصادي فورم کا قيام باہمي اقتصادي تعاون کي توسيع کے لئے موثر ثابت ہوسکتا ہے –

اسلامي جمہوريہ ايران کے صدر نے اسي طرح ممبر ملکوں کے درميان اقتصادي صنعتي اور زرعي ميدانوں ميں تعاون کو زيادہ سے زيادہ فروغ دينے کي ضرورت پر تاکيد کرتے ہوئے کہا کہ کسٹم کے ہم آہنگ قوانين کا وضع کيا جانا اور سائنس و ٹکنالوجي کے ميدان ميں تعاون کي توسيع ممبرملکوں کي مشارکت کي سب سے اہم اور بنيادي حکمت عملي ہوني چاہئے –

اسلامي جمہوريہ ايران کے صدر نے کہا کہ  گذشتہ دوعشروں کے دوران دنيا پر حکمفرما سرمايہ دارانہ نظام کي نااہلي اور اس کا تفريق آميز رويہ سب پر واضح ہوچکا ہے-

انہوں نے کہا کہ دنيا کي سبھي قوميں اس صورتحال سے تنگ آچکي ہيں اور دولت و ثروت کے مراکز سے ان کا اعتماد اٹھ چکا ہے اور ان ميں اصلاح کي بھي انہيں کوئي توقع نہيں ہے -

     اس سے پہلے اجلاس کي افتتاحي تقريب سے خطاب کرتے ہوئے جمہوريہ آذربائجان کے صدر نے  اسلاموفوبيا  اور اسلام کے خلاف منفي  پروپيگنڈوں کے خلاف جد وجہد کے ميدان ميں اي سي او کے ممبرملکوں کے باہمي تعاون کي ضرورت پر زور ديا - جمہوريہ آذر بائجان کے صدر الہام علي اف نے اي سي او کے بارہويں سربراہي اجلاس کي افتتاحي تقريب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اي سي او کے ملکوں کو چاہئے کہ دين اسلام کي تبليغ اور اسي طرح اسلاموفوبيا کا مقابلہ کرنے نيز اسلام کي صحيح تصوير پيش کرنے کے لئے  پوري کوشش کريں -

    اي سي او کے بارہويں سربراہي اجلاس ميں اسلامي جمہوريہ ايران  آذربائجان ، پاکستان ، افغانستان ، تاجکستان کے صدور اور ترکي کے وزير اعظم شريک ہيں - اي سي او کے دس ممبرممالک ہيں جن مين ايران، ترکي، جمہوريہ آذربائجان ، پاکستان ، افغانستان ، قزاقستان ، قرقيزستان ، ازبکستان ، تاجيکستان ، اور ترکمنستان شامل ہيں - اس تنظيم کي بنياد انيس سو چوراسي ميں ڈالي گئي تھي جب اس کے صرف تين ممالک يعني ايران ترکي اور پاکستان ہي ممبر تھے، اس تنظيم کے قيام کا مقصد علاقے کے ملکوں کےعوام کي سطح زندگي کو بہتر اور اس کو اوپر لے جانا ہے-

.....

/169