12 اکتوبر 2012 - 20:30

بحرین میں آل خلیفہ کے روزبروزبڑھتےہوئےجرائم اور تشددآمیزرویے پرحکومت کےمخالفین نےحکام کوخبردارکرتےہوئےان کےرویےکی مذمت کی ہے۔

ابنا: بحرین کے وزیرانصاف شیخ خالدبن علی آل خلیفہ نے اعلان کیاہےکہ وزارت انصاف جلدہی ان نمازجمعہ کےخطبوں پر پابندی لگانےکےلئےطاقت کااستعمال کرےگی جن میں عوام کو مظاہروں پراحتجاج کی ترغیب دلائی جاتی ہے۔بحرین کےسیاسی حلقوں اورمخالفین نے وزیرانصاف کےاس بیان پرشدیدردعمل ظاہرکرتےہوئےکہاہےکہ ان کایہ بیان، علماء بحرین کی کونسل کےسربراہ شیخ عیسی قاسم کےخلاف دیاگیاہےاورحکومت، بحرین کےانقلابی عوام کی حمایت میں امام جمعہ شیخ عیسی قاسم کے خطبوں اوربیانات کی بناپران سےانتقام لیناچاہتی ہے۔اس بناپربحرین کےانقلابی گروہوں نے علماء بحرین کی کونسل کےسربراہ شیخ عیسی قاسم کی حمایت کااعلان کرتےہوئےان کےخلاف آل خلیفہ کی جانب سےکسی طرح کی حماقت کرنے پرخبردارکیاہے۔ایک رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ آل خلیفہ حکومت نے ایسےکچہ اساتذہ اور طلباء کویونیورسٹیوں سےنکال دیا ہے جو حکومت کی پالیسیوں پرتنقیدکرتےتھے۔جمیعت الوفاق سےوابستہ بحرین کےجوانوں کی ایک تنظیم نےبھی آل خلیفہ کےمظالم اورغیرقانونی اقدامات پر تنقیدکرتےہوئےاعلان کیاہےکہ آل خلیفہ مظاہرین سےبدلہ لینےکےلئے طلباء کونکال رہی ہے اوران کےحقوق پامال کررہی ہے۔بحرینی جوانوں کی اس تنظیم نے جیل میں بند تمام قیدیوں کی آزادی کامطالبہ کرتےہوئےتاکیدکی ہےکہ یہ طالب علم بےگناہ ہیں اورآل خلیفہ نےان کےخلاف جعلی اورظالمانہ الزامات عائدکئےہيں۔بحرین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی جاری رہنےسےمتعلق ایک خبریہ ہےکہ بحرین کی بحرین کی اپیل  کورٹ نے اس ملک کےانسانی حقوق کی تنظیم کےسربراہ کی رہائی کی مخالفت کی ہے ۔بحرین کی انسانی حقوق کی تنظیم کےسربراہ نبیل رجب کےوکیل محمدالجشی نے بتایاکہ بحرین کی اپیل کورٹ کےجج عیسی مبارک الکعبی نے ایک بیان میں نبیبل رجب کی رہائی کی مخالفت کی ہے۔نبیل رجب پر عوامی مظاہروں میں شرکت کرنےکاالزام ہے ۔ بحرینی عدالت نےنبیل رجب کوعوامی مظاہروں میں شرکت کےالزام میں تین سال قیدکی سزادی ہے۔ان تمام خبروں کےبیچ ایک قابل غور اوراہم  نکتہ یہ ہےکہ آل خلیفہ کےمخالفین ،حکومت کےغیرقانونی رویےمیں اضافے کےباوجودآل خلیفہ کےمظالم اوراس کی غیرقانونی حکومت کےخلاف مظاہرےاوراحتجاج کاسلسلہ جاری رکھنےپرتاکیدکرتےہیں یہ ایسےعالم میں ہے کہ بحرین کی قومی وفاق کونسل کےسربراہ جمیل کاظم نےانکشاف کیاہےکہ آل خلیفہ حکومت نے مظاہرین کےخلاف پروپیگنڈہ کرنےاوراپنی شبیہ بہتربنانےکےلئے گذشتہ سال سے اٹھارہ کمپنیوں کی خدمات حاصل کی ہیں جنھیں اس نے اس کام کےلئےتئیس ملین دیناردیئےہیں لیکن اب تک اس طرح کی کوششوں کاکوئي فائدہ نہيں ہوا ہے اورعوام کےاندرآل خلیفہ کےتئيں غصہ اورنفرت میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے جمیل کاظم نےاس تناظرمیں اعلان کیاہے کہ آل خلیفہ کی سازشوں اور عیاریوں کامقابلہ کرنےکاواحد راستہ باہمی اتحاد واتفاق ہے۔بحرین میں بعض دوسرےعرب ممالک کی طرح استبدادی اورموروثی بادشاہتیں قائم ہيں جواپنےاقتدارکوبچانےکےلئےطرح طرح کےحربےاستعمال کرتی ہیں اوراس سلسلےمیں ان کےاندراتحاد کایہ عالم ہےکہ وہ کسی بھی عرب ملک میں جاری عوامی تحریک کوکچلنےکےلئےکھلےعام مداخلت کرتی ہيں ۔ خودبحرین میں گذشتہ تقریبادوبرس سے آل خلیفہ کی جابروآمرحکومت کےخلاف عوامی مظاہروں کاسلسلہ جاری ہے جسےکچلنےاورآل خلیفہ کی مدد کےلئےآل سعود نےبھی اپنےفوجیوں کوبحرین میں تعینات کردیا ہے۔آل خلیفہ اورآل سعود کےفوجیوں کےہاتھوں بحرینی عوام پرمظالم اوران کےمظاہروں کوکچلنےکاسلسلہ ایسےعالم میں جاری ہےکہ انسانی حقوق کےدعویدارمغربی ممالک بالخصوص امریکہ اوربرطانیہ اس کی بھرپورحمایت کررہےہيں ۔...../169