ابنا: جرمنی کا دوسرا بڑا شہر ہیمبرگ کہ جس میں اٹھارہ لاکھ مسلمان آباد ہیں، اسلامی اعیاد کوسرکاری حیثیت دینے کے لیے مقامی اسمبلی کی حمایت کا منتظرہے۔ اس فیصلے کی بنا پر مسلمانوں کو یہ حق حاصل ہو گا کہ وہ سکولوں میں دینی تعلیم حاصل اور اپنے مردوں کو اپنے قبرستانوں میں دفن کرسکیں گے اور اسلامی اعیاد پر انہیں چھٹی ہو گی۔ جرمنی کے شہر ہیمبرگ کے میئر"اولاف شولٹز" نے کہا ہے کہ اس وقت ہم ایک نئے مرحلے میں واقع ہیں اور اسلامی اعیاد میں ڈیڑھ لاکھ مسلمان چھٹی کریں گے اور وہ اپنے گھروالوں کے ساتھ ان عیدوں کو من اسکیں گے۔ اسی طرح عید فطر اور عاشورا کے دن بھی اسٹوڈنٹس کلاسوں میں شرکت نہیں کریں گے۔
جرمنی کی ایک اسلامی آرگنائزیشن کے سربراہ"زکریا ٹوگ" کہ جو ہیمبرگ میں ۹مساجد کے امور کے عہدیدار ہیں،نے کہا ہے کہ اس سے قبل بعض مسلمان اس وجہ سے چھٹی لینے سے اجتناب کیا کرتے تھے کہ شاید ان کی چھٹی سے ان کو نقصان پہنچے لیکن جب قانون بن جائے گا تو وہ آسانی سے اس فرصت سے استفادہ کرسکتے ہیں تاکہ اپنے گھر والوں کے ساتھ مل کر اس دن کو منائے۔
یاد رہے کہ ہیمبرگ میں اس وقت ترکی،پاکستان، عراق اور افغانستان کے مسلمان آباد ہیں۔
.....
/169